Brailvi Books

خود کُشی کا علاج
25 - 80
اس کی اذیّت اور اس کے بڑے ہونے پر نظر رکھنے کے بجائے اس پر ملنے والے ثوابِ آخِرت پر غو رکریں۔اِن شاءَ االلہ عَزَّوَجَلَّ اِ سطرح صَبْر کرنا آسان ہو جائے گا اور اگر ہم صَبْر کرنے میں کامیاب ہو گئے تو بروزِ قِیامت اس کے ایسے عظیمُ الشّان ثواب کے حق دار ہو جائیں گے جس کودیکھ کر لوگ رشک کریں گے ۔ چُنانچِہ اللہ کے محبوب ، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب عَزَّوَجَلَّ وصلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کافرمانِ ذیشان ہے: جب بروزِ قِیامت اَہلِ بلا (یعنی بیماروں اور آفت زدوں) کو ثواب عطا کیا جائیگا تو عافِیت والے تمنّا کریں گے کہ کاش! دُنیا میں ہماری کھالیں قَینچیوں سے کاٹی جاتیں۔
(سُنَنُ التِّرْمِذِی ج۴ ص۱۸۰حدیث ۲۴۱۰ دارا لفکر بیروت)
    مُفَسّرِشہیر حکیمُ الْاُمَّت حضر تِ  مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃ الحنّان اس حدیث پاک کے الفاظ '' کاش! دُنیا میں ہماری کھالیں قَینچیوں سے کاٹی جاتیں'' کے تحت فرماتے ہیں :یعنی تمنّا وآرزو کریں گے کہ ہم پر دنیا میں ایسی بیماریاں آئی ہوتیں ،جن میں آپریشن کے ذَرِیعے ہماری کھالیں کاٹی جاتیں تاکہ ہم کو بھی وہ
ثواب آج ملتا جو دوسرے بیماروں اور آفت زدوں کو مل رہا ہے۔(مراٰۃ ،ج۲ص۴۲۴)
Flag Counter