| خود کُشی کا علاج |
ہونے دے ۔ (کیو نکہ بِلاضَرورت اِس کا اظہار بے صَبری کی عَلامَت ہے جیسا کہ آجکل معمولی نَزلہ اور زُکام یا دَرد سر بھی ہو جائے تو لو گ خوامخواہ ہر ایک کو کہتے پِھرتے ہیں)(ایضاً)
سرپہ ٹوٹے گو کوہِ بلا صَبْر کر ،اے مسلماں نہ تُو ڈگمگا صَبْر کر لب پہ حرفِ شکایت نہ لا صَبْر کر، کہ یہی سنّتِ شاہِ ابرارہے
مصیبت چھپانے کی بھی کیا خوب فضیلت ہے۔ چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا ابنِ عبّاس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم ، نبیِّ مُحتَشَم،شافِعِ اُمَم،صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:جس کے مال یا جان میں مُصیبت آئی پھر اُس نے اسے پوشیدہ رکھا اور لوگوں پر ظاہِر نہ کیا تو اللہ عَزَّوَجَلّ َپر حقّ ہے کہ اس کی مغفِرت فرما دے۔''
( مَجْمَعُ الزَّوَائِد ج ۱۰ ص۴۵۰ حدیث ۱۷۸۷۲)
چُپ کر سِیں تا ں موتی مِلسن، صَبْر کرے تا ہیرے پاگلاں وانگوں رَولا پاویں ناں موتی ناں ہیرے
کاش! میں مُصیبت زدہ ہوتا
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو ! ہمیں چاہئے کہ کیسی ہی مصیبت آجائے