ہمارے اَسلاف رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی ٰ تو مُصیبت پر ملنے والے ثواب کے تصوُّر میں ایسے گُم ہوجا تے تھے کہ انہیں مُصیبت کی پرواہ ہی نہ رَہتی جیساکہ منقول ہے،حضرتِ سیِّدُنا فتح مَوصِلی علیہ رحمۃ اللہ الولی کی اَہلیۂ محتر مہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیھا ایک مرتبہ زور سے گِریں جس سے ناخُن مُبارک ٹُوٹ گیا، لیکن دَرد سے کَراہنے اور '' ہائے '' اُوہ '' وغیرہ کرنے کے بجائے وہ ہنسنے لگیں!! کسی نے پوچھا : کیا زَخم میں دَرد نہیں ہو رہا ؟ فرمایا :'' صَبْر کے بدلے میں ہاتھ آنے والے ثواب کی خوشی میں مجھے چوٹ کی تکلیف کا خیال ہی نہ آسکا ۔''