| خود کُشی کا علاج |
دُور دنیا کے ہوجائیں رنج وَ اَلم، مجھ کو مل جائے میٹھے مدینے کا غم ہو کرم ہوکرم یا خدا ہو کرم ، واسِطہ اُس کا جوشاہِ اَبرار ہے
بے صبری سے مصیبت دور نہیں ہوتی
آپ نے مُلاحَظہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مصیبتیں دے کر آزماتا ہے تو جس نے ان میں بے صبری کا مظاہَرہ کیا ،واوَیلا مچایا، ناشکری کے کَلِمات زَبان سے ادا کئے یا بیزار ہو کر مَعاذَااللہ عَزَّوَجَلَّ خودکُشی کی راہ لی ،وہ اِس امتِحان میں بُری طر ح ناکام ہوکر پہلے سے کروڑہا کروڑگُنا زائِد مصیبتوں کا سزاوار ہوگیا ۔ بے صبری کرنے سے مصیبت تو جانے سے رہی اُلٹا صَبْر کے ذَرِیْعہ ہاتھ آنے والا عظیمُ الشّان ثواب ضائِع ہو جاتا ہے جو کہ بذاتِ خود ایک بَہُت بڑی مصیبت ہے۔
مُصیبت سے بڑی مُصیبت
حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن مبارَک علیہ ر حمۃاللہ المالِک کا فرمانِ عالی شان ہے،''مُصیبت( ابتِداء ً) ایک ہوتی ہے (مگر) جب مُصیبت زدہ جَزَع (فَزَ ع یعنی بے صَبری اور واوَیلا) کرتا ہے تو ( ایک کے بجائے )دو مصیبتیں ہوجاتی ہیں (۱)