| خود کُشی کا علاج |
ہے۔ جو مَصائب و آلام پر صَبْر کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے وہ االلہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کے سائے میں آجاتا ہے۔ چُنانچِہ پارہ دوسرا، سورۃُ الْبَقَرۃ آیت نمبر 155 تا157 میں ارشاد ربّانی ہے:۔
وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیۡءٍ مِّنَ الْخَوۡفِ وَالْجُوۡعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الۡاَمۡوٰلِ وَالۡاَنۡفُسِ وَالثَّمَرٰتِ ؕ وَبَشِّرِ الصّٰبِرِیۡنَ﴿۱۵۵﴾ۙ الَّذِیۡنَ اِذَاۤ اَصٰبَتْہُمۡ مُّصِیۡبَۃٌ ۙ قَالُوۡۤا اِنَّا لِلہِ وَ اِنَّاۤ اِلَیۡہِ رٰجِعُوۡنَ﴿۱۵۶﴾ؕ اُولٰٓئِکَ عَلَیۡہِمۡ صَلَوٰتٌ مِّنۡ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ ۟ وَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْمُہۡتَدُوۡنَ﴿۱۵۷﴾
تر جَمَۂ کنزُالایمان :اور ضَرور ہم تمہیں آزمائیں گے کچھ ڈر اور بھوک سے اور کچھ مالوں اور جانوں اور پھلوں کی کمی سے، اور خوشخبری سنا اُن صَبْروالوں کو کہ جب ان پر کوئی مصیبت پڑے تو کہیں ،ہم اللہ(عَزَّوَجَلَّ) کے مال ہیں اور ہم کو اُسی کی طرف پھرنا۔ یہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب(عَزَّوَجَلَّ) کی دُرُودیں ہیں اور رَحمت۔ اوریِہی لوگ راہ پر ہیں۔''