| خود کُشی کا علاج |
عذاب میں رہے گا(لہٰذا اگر کسی مسلمان کے بارے میں یہ وارِد ہوکہ وہ ہمیشہ عذاب میں رہے گا۔تو یہاں یہ معنیٰ لئے جائیں گے کہ طویل مدّت تک عذاب میں رہے گا ۔ جیسا کہ مُحَاوَرَۃً کہا جاتا ہے، '' ایک بار یہ چیز خرید لیجئے ہمیشہ کا آرام ہو جا ئے گا۔ ''حالانکہ ہمیشہ کا آرام ممکن نہیں تویہاں ہمیشہ کے آرام سے مُراد طویل مدّت کا آرام ہے)اسی طرح بطورِ دعا کہا جاتا ہے
خَلَّدَاللہُ مُلْکَ السُّلْطَانِ
(اللہ عَزَّوَجَلَّ بادشاہ کا ملک ہمیشہ سلامت رکھے)یہاں مُراد یہی ہے کہ تادَیر قائم رکھے ۔اِسی طرح ہمارے یہاں بُزُرگوں کیلئے یہ دعائیہ الفاظ مُرُوَّج ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ آپ کا سایہ ہم گنہگاروں پر قائم و دائم رکھے۔''دائم'' کے لفظی معنیٰ اگر چِہ '' ہمیشہ '' ہے مگر یہاں مُراد '' تادیر'' یا '' طویل مدّت'' ہے۔ بعض عوام اِس جملہ میں '' تادیر قائم و دائم '' کے الفاظ بھی بولتے ہیں مگر یہ غلط العوام ہے یہاں '' دائم '' کے ہوتے ہوئے لفظ''تادیر '' بولنا غلطی ہے (۳) تیسرا قول یہ ہے کہ خودکُشی کی سزا تو یِہی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے مؤ منین پر کرم فر مایا اور خبر دے دی کہ جو ایمان پر مرے گا وہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہے گا (یعنی معاذاللہ عَزَّوَجَلَّ