گناہوں کی کثرت اور اَحوالِ آخِرت کے مُعامَلے میں جَہالت کے سبب افسو س ہمارے وطنِ عزیز پاکستان میں خودکُشی کا رُجحان(رُج۔حان) بڑھتا ہی چلا جارہا ہے ۔ایک اخباری رَپورٹ کے مطابِق اگست 2004میں پاکستان میں خود کُشی کی 68وارِداتیں ہوئیں جن میں بابُ المدینہ کراچی کا پہلا نمبر رہا جبکہ دوسرا نمبر مدینۃُ الْاولیاء ملتان والوں کا آیا۔ اُسی اَخبار کے مطابِق دنیا میں ہر 40 سیکنڈ میں خودکُشی کی ایک وارِدات ہوتی ہے!
کیا خودکُشی سے جان چھوٹ جاتی ہے ؟
خود کُشی کر نے والے شاید یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری جان چُھوٹ جا ئے گی! حالانکہ اس سے جان چھوٹنے کے بجائے ناراضئ ربُّ ا لعزّت عَزَّوَجَلَّ کی صورت میں نہایت بُری طرح پھنس جاتی ہے۔خدا عَزَّوَجَلَّ کی قسم! خود کُشی کا