کسی نے خواجہ صاحِب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے آنکھیں مانگ لیں اور اُنہوں نے عطائے خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے عنایت فرما دِیں تو آخِر یہ ایسی کون سی بات ہے جو سمجھ میں نہیں آتی؟ یہ مسئلہ تو فی زمانہ فنِّ طِبّ نے بھی حل کر ڈالا ہے! ہر کوئی جانتا ہے کہ آج کل ڈاکٹر آپریشن کے ذریعے مُردہ کی آنکھیں لگا کر اندھوں کوبِینا(یعنی دیکھتا) کر دیتے ہیں۔ بس اِسی طرح خواجہ غریب نواز رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی ایک اندھے کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا کردہ رُوحانی قوَّت سے نابِینائی کے مرض سے شفا دے کر بینا(یعنی دیکھتا) کر دیا۔ بَہرحال اگر کوئی یہ عقیدہ رکھے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی نبی یا ولی کو مرض سے شِفا دینے یا کچھ عطا کرنے کا اختیار دیا ہی نہیں ہے تو ایسا شخص حکمِ قرآن کو جھٹلا رہا ہے۔چُنانچِہ پارہ 3سورہ اٰلِ عمران آیت نمبر 49 میں حضرتِ سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللہ علٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا قول نقل کیا گیا ہے: