اپنے بیٹے کو کھڑا کیا تو وہ کھڑا ہو گیا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ اتخاذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِسْتَوْطَنَ عَتِیْقٌ کَرَاتَشِیاً عتیق نے کراچی کو وطن بنا لیا وَطَنٌ وطن
اس مثال میں فاعل(عتیق) نے مفعول( کراچی) کو مأخذ( وطن) بنا لیا ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ابتداء:ابتداء کی درج ذیل دو صورتیں ہیں :
اول :باب اِسْتِفْعَال کاایسے فعل میں استعمال ہونا جس سے مجرد استعمال نہ ہوا ہوجیسے :اِسْتَأجَزَ عَلَی الْوِسَادَۃِ:وہ تکیہ پر ٹیڑھا ہوکر بیٹھا۔کہ اس کامجرداستعمال نہیں ہوتا۔
ثانی :باب اِسْتِفْعَال کاایسے فعل میں استعمال ہونا جس کامجرداستعمال تو ہومگر معنی تبدیل ہوجائے ۔جیسے:اِسْتَعَانَ رَجُلٌ: آدمی نے موئے زیر ناف مونڈے۔ کہ استعان کامجرد عان بمعنی مدد کرنا استعمال ہواہے۔
(۵)۔۔۔۔۔۔طلب مأخذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِسْتَخَرْتُ میں نے خیر طلب کی خَیْرٌ بھلائی
اس مثال میں فاعل (ذات متکلم) نے مأخذ (بھلائی )کو طلب کیا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔ تعمل:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ