اِسْتَسَافَ زَیْدٌ زید تلوار سے لڑا سَیْفٌ تلوار
ا س مثال میں فاعل (زید) مأخذ( تلوار) کو اپنے لڑنے کے کام میں لایاہے۔
(۷)۔۔۔۔۔۔ تحول:اس کی دو صورتیں بنتی ہیں:
۱۔تحول صوری ۲۔تحول معنوی
صورت مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
تحول صوری اِسْتَحْجَرَالطِّیْنُ گارا پتھر کی مانند ہوگیا حَجَرٌ پتھر
تحول معنوی اِسْتَنَاقَ الْجَمَلُ اونٹ اونٹنی بن گیا نَاقَۃٌ اونٹنی
پتھر اور گارے کی الگ الگ صورتیں ہوتی ہیں ،پہلی صورت میں فاعل (الطین) کی ماہیت تبدیل ہوکر مأخذ( پتھر) کی مثل ہوگئی ،اس کو تحول صوری کہا جاتا ہے۔ کیونکہ تبدیلی صرف صورت میں ہوئی ہے اور اصل دونوں کی وہی ہے۔
دوسری مثال میں فاعل(الجمل) کی ماہیت تبدیل ہوکر مأخذ( اونٹنی) بن گئی ہے اس کو تحول معنوی کہتے ہیں۔کیونکہ دونوں یعنی اونٹ اور اونٹنی کے معنی مقاصد میں فرق ہے۔
(۸)۔۔۔۔۔۔ قصر: جیسے: اِسْتَرْجَعَ عَبْدُ اللہِ، عبد اللہ نے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ پڑھا۔اس مثال میں اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ کو مختصر کر کے اس کی جگہ باب اِسْتِفْعَال کاایک کلمہ یعنی اِسْتَرْجَعَاستعمال ہواہے۔جب کوئی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ پڑھتاہے تواِسْتَرْجَعَ کہاجاتاہے ۔اسی کو قصر کہتے ہیں۔
(۹)۔۔۔۔۔۔ حسبان:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ