(۴)۔۔۔۔۔۔ ابتداء: جیسے: اِسْتَلَمَ زَیْدٌ : زید نے پتھر کو بوسہ دیا۔ اس مثال میں اِسْتَلَمَ فعل بوسہ کے معنی میں آیاہے اور مجر د میں یہ مادہ سلامتی کے معنی میں استعمال ہوتاہے نہ کہ بوسہ دینے کے معنی میں۔اوراسی کوابتداء کانام دیاجاتا ہے۔
(۵)۔۔۔۔۔۔تدریج:جیسے: اِفْتَضَّ عَمْرٌو: عمرو نے پانی آہستہ آہستہ گرایا۔اس مثال میں فاعل( عمرو) نے افتضاض کاعمل آہستہ آہستہ کیاہے ،اسی کو تدریج کہتے ہیں۔
(۶)۔۔۔۔۔۔ تعدیہ:جیسے: خَذَمَ الشَّیْئُ: شے کٹ گئی سے اِخْتَذَمَ زَیْدٌ الْجِلْدَ،زید نے چمڑے کو کاٹ دیا۔اس مثال میں فعل( خذم) مجرد میں لازم تھا کہ باب افتعال میں آنے کے بعد متعدی ہوگیا۔
(۷)۔۔۔۔۔۔تخییر: جیسے: اِطَّبَخَ تِلْمِیْذٌ: شاگرد نے اپنے لیے پکایا۔اس مثال میں فاعل( تلمیذ) نے پکانے کاکام اپنے لئے اختیارکیاہے ۔
(۸)۔۔۔۔۔۔تحویل:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِخْتَشَبَ زَیْدٌ السَّیْفَ زید نے تلوار کو لکڑی جیسا بنادیا خَشَبٌ لکڑی
اس مثال میں فاعل( زید)نے مفعول (السیف)کو مأخذ( لکڑی) جیسا بنا دیا ۔
(۹)۔۔۔۔۔۔تطلیہ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِغْتَمَرَ زَیْدٌ زید نے اپنے جسم پر زعفران ملا غُمْرٌ زعفران