تَبَاکٰی زَیْدٌ زید بناوٹی رونارویا بُکَاءٌ رونا
اس مثال میں فاعل (زید)نے اپنے اندر مأخذ( رونے) کاحصول ظاہر کیاہے باوجودیکہ رونااسے ناپسند ہے ۔
تخییل وتکلف میں فرق:
۱۔تخییل میں مأخذ (جس وصف کو ظاہرکیا جارہا ہے) حقیقۃ مرغوب وپسندیدہ نہیں ہوتا، جیسے: تَمَارَضَ زَیْدٌ : زید بتکلف بیمار بنا، حقیقت میں بیمار نہیں تھا اور مرض حقیقت میں پسند اور مرغوب نہیں ہوتا۔
۲۔تکلف میں وہ مأخذ (یعنی وہ وصف جس کو بطور تصنع ظاہر کیا جا رہا ہے) مرغوب وپسندیدہ ہوتا ہے۔ جیسے: تَشَجَّعَ زَیْدٌ : زید بتکلف شجاع (بہادر) بنا، یہ مأخذ (شجاعت) حقیقت میں مرغوب وپسندیدہ ہوتا ہے خلاصہ یہ کہ فرق رغبت وعدم رغبت کا ہوتا ہے۔