| خاصیات ابواب الصرف |
(۳)۔۔۔۔۔۔ابتداء: با ب تفاعل کا ابتداءً ایسے معنی کے لیے آنا جس کے لیے اس کامجرد استعمال نہ ہوا ہو۔جیسے: تَبَارَکَ اللہُ : اللہ تعالی برکت والاہے کہ مجرد میں اس کا مادہ بَرَکَ آیا جو کہ اونٹ کو بٹھانے کے معنی میں ہے۔ (۴)۔۔۔۔۔۔مطاوعت مُفَاعَلَۃ:با ب مفاعلہ کے بعد تفاعل کا اس غرض سے آنا تاکہ یہ معلوم ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے مفعول پر جو اثرکیاتھا مفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔ جیسے:
بَاعَدَ زَیْدٌ عَمْروًا فَتَبَاعَدَ :
زید نے عمرو کو دور کیاتو وہ دور ہوگیا۔
(۵)۔۔۔۔۔۔تشارک: جیسے: تَقَاتَلَ زَیْدٌ وَعَمْرٌو: زید اورعمرو نے باہم قتال کیا۔
مفاعلۃاور تفاعل کافرق :
مفاعلہ اور تفاعل دونوں اس لحاظ سے تو متفق ہیں کہ ان دونوں میں اشتراک والا خاصہ پایا جاتاہے لیکن لفظی اعتبار سے ان میں یہ فرق ہے کہ باب مفاعلہ میں لفظی اعتبار سے ایک اسم فاعل بنتا ہے اور دوسرا مفعول ، لیکن باب تفاعل میں دونوں اسم بصورت فاعل ہوتے ہیں اور دونوں کے درمیان حرف عطف ہوتا ہے جو دونوں کو حکم میں شریک کرتاہے۔جیساکہ اس مثال سے واضح ہے: تَقَابَلَ زَیْدٌ وَخَالِدٌ: زید اور خالد نے باہم مقابلہ کیا ،کہ اس میں حرف عطف استعمال ہوا ہے۔ قَاتَلَ زَیْدٌ خَالِداً: زید اور خالد نے باہم قتال کیا ،کہ اس میں حرف عطف استعمال نہیں ہوا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔تخییل:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ