Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
84 - 136
دوسری مثال میں فاعل (زید)نے مأخذ (پناہ)کو پکڑا یا اختیار کیا ہے ۔

تیسری مثال میں فاعل (بکر)نے مفعول(الحجر)کو مأخذ (تکیہ) بنایاہے ۔

چوتھی مثال میں فاعل (الرجل)نے مفعول( الصبی)کو مأخذ (بغل) میں پکڑاہے۔

(۵)۔۔۔۔۔۔سلب مأخذ: 

مثال			معنی			مأخذ		مدلول مأخذ

تَمَخَّطَ عَبْدُ اللہِ 	عبد اللہ نے رینٹھ دور کردی	                        مَخَاطٌ 		                               رینٹھ

    اس مثال میں فاعل(عبداللہ)نے مأخذ( رینٹھ)جوکہ ناک میں ہوتی ہے اسے نکال کردور کردیا۔ 

(۶)۔۔۔۔۔۔تدریج:اسکی دو صورتیں ہیں:

۱۔کسی عمل کا ایک مرتبہ حصول ممکن ہونے کے باوجود فاعل کا اس کو بار بار کرنا۔ مثال: تَجَرَّعَ خَالِدٌ الْمَآءَ: خالد نے پانی کو گھونٹ گھونٹ پیا۔اس مثال میں فاعل (خالد) نے پانی پینے والا کام آہستہ آہستہ کیا ہے حالانکہ ایک ہی مرتبہ پانی پینابھی ممکن تھا۔ 

۲۔جس عمل کا یکبارگی حصول نا ممکن ہو فاعل کا اس کو آہستہ آہستہ کرنا۔ مثال: تَحَفَّظَ ہَاشِمٌ الْقُرْآنَ: ہاشم نے آہستہ آہستہ قرآن حفظ کیا۔اس مثال میں فاعل(ہاشم )نے حفظ قرآن والا کام جویکبارگی ناممکن تھااسے آہستہ آہستہ کیاہے ۔ 

(۷)۔۔۔۔۔۔صیرورت:

مثال			معنی		مأخذ	مدلول مأخذ