تَمَوَّلَ عَمْرٌو عمرو مال والا ہوگیا مال مال/دولت
اس مثال میں فاعل( عمرو) مأخذ( مال )والاہوگیا۔
(۸)۔۔۔۔۔۔تحول:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
تَذَ ئَّ بَ زَیْدٌ زید خباثت میں بھیڑیے کی مانند ہوگیا ذِئْبٌ بھیڑیا
اس مثال میں فاعل( زید) مأخذ( ذئب )کی مثل ہوگیا۔
(۹)۔۔۔۔۔۔مطاوعت: با ب تفعل درج ذیل ابواب کی مطاوعت کرتاہے:
۱۔مطاوعت مُفَاعَلَۃ: با ب مفاعلہ کے بعد با ب تفعل کالانا، مثال: بَاعَدَ بَکْرٌ وَلِیْداً فَتَبَعَّدَ: بکر نے ولید کو دور کیا تو وہ دور ہوگیا۔
۲۔مطاوعت تَفْعِیْل: با ب تفعیل کے بعد با ب تفعل کا آنا، اس صورت میں مطاوعت کی دوصورتیں بنتی ہیں:
۱۔فاعل کا اثر مفعول سے جدا نہ ہوسکے۔ مثال: قَطَّعْتُہ، فَتَقَطَّعَ: میں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کیا تووہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔
۲۔فاعل کا اثرمفعول سے جدا ہو سکے۔مثال: اَدَّبْتُہ، فَتَأَدَّبَ: میں نے اسے ادب سکھایا تو اس نے ادب سیکھ لیا، بعض اوقات یہ ادب جدا بھی ہوجاتا ہے تووہ بے ادب ہو جاتا ہے۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔طلب مأخذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
تَرَبَّحَ عِیْسیٰ عیسیٰ نے نفع طلب کیا رِبْحٌ نفع/فائدہ
اس مثال میں فاعل( عیسی)نے مأخذ (نفع )طلب کیا۔