استعمال نہ ہوا ہو۔ پھر اس کی دو صورتیں ہیں :
۱۔سرے سے مجرد میں استعمال ہی نہ ہوا ہو۔ مثال: تَشَمَّسَ عَمْروٌ: عمرو دھوپ میں بیٹھا۔
۲۔مجرد میں استعمال تو ہو لیکن اور معنی میں استعمال ہوا ہو، مثال: تَکَلَّمَ مُوْسٰی: موسی نے بات کی، مجرد میں یہ مادہ کَلِمَ: وہ مجروح(زخمی) ہوا یعنی: زخمی ہونے کے معنی میں استعمال ہو ا ہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اتخاذ: اس کی کئی صورتیں بنتی ہیں:
۱۔فاعل کا مدلول مأخذ کوبنانا۔
۲۔فاعل کا مأخذ کو پکڑلینایا اختیار کرلینا۔
۳۔فاعل کا مفعول کو مأخذ بنانا ۔
۴۔فاعل کا مفعول کو مأخذ میں پکڑنا ۔
صورت مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اول تَخَبَّصَ عُمَرُ عمر نے گھی کھجور کاحلوہ بنایا خَبِیْصَۃٌ کھجوراورگھی سے تیار شدہ حلوہ
ثانی تَحَرَّزَ مِنْہُ زید زیدنے اس سے پناہ پکڑی حِرْزٌ پناہ
ثالث تَوَسَّدَبَكرٌ الحَجَرَ بکر نے پتھر کوتکیہ بنایا وِسَادَۃٌ تکیہ
رابع تَاَئبَّطَ الرَّجُلُ الصَّبِیَّمردنے بچے کو بغل میں پکڑا اِبْطٌ بغل
پہلی مثال میں فاعل (عمر) نے مأخذ( حلوہ) کو بنایاہے ۔