(خالد اور نعیم نے آپس میں لڑائی کی)۔
لفظاً فاعل ومفعول کے متعدد ہونے کے اعتبار سے چار صورتیں بنتی ہیں:
۱۔فاعل ومفعول ایک ایک ہوں۔ جیسے:
زید نے عمرو سے قتال کیا۔
۲۔فاعل ومفعول دونوں متعدد ہوں۔ جیسے:
ہم نے ان سے قتال کیا۔
۳۔فاعل متعدد ہوں اور مفعول واحد ہو۔ جیسے: قَاتَلْنَاہ،: ہم نے اس سے قتال کیا۔
۴۔فاعل واحد ہو اور مفعول متعدد ہوں جیسے: قَاتَلْتُہُمْ: میں نے ان سے قتال کیا۔
(۸)۔۔۔۔۔۔بلوغ مکانی:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
شَآءَ مَ زَیْدٌ زید ملک شام میں پہنچا اَلشَامُ ملک شام
اس مثال میں فاعل (زید) مأخذ( ملک شام )میں پہنچ گیا۔