Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
80 - 136
ہے اور اس کامطلب ہوگا:
جَعَلَکَ اللہ ذَاعَافِیَۃٍ:
یعنی الّٰلہ تعالی تجھے عافیت والا بنادے ۔

(۷)۔۔۔۔۔۔مُشَارَکَت: کسی کام میں دو چیزوں کا اس طرح شریک ہونا کہ ان میں سے ہر ایک فاعل بھی ہو اور مفعول بھی۔جیسے:
قَاتَلَ خَالِدٌ نَعِیْماً:
 (خالد اور نعیم نے آپس میں لڑائی کی)۔

لفظاً فاعل ومفعول کے متعدد ہونے کے اعتبار سے چار صورتیں بنتی ہیں:

۱۔فاعل ومفعول ایک ایک ہوں۔ جیسے:
قَاتَلَ زَیْدٌ عَمْرواً:
زید نے عمرو سے قتال کیا۔

۲۔فاعل ومفعول دونوں متعدد ہوں۔ جیسے:
قَاتَلْنَاھُمْ:
ہم نے ان سے قتال کیا۔

۳۔فاعل متعدد ہوں اور مفعول واحد ہو۔ جیسے: قَاتَلْنَاہ،: ہم نے اس سے قتال کیا۔

۴۔فاعل واحد ہو اور مفعول متعدد ہوں جیسے: قَاتَلْتُہُمْ: میں نے ان سے قتال کیا۔

(۸)۔۔۔۔۔۔بلوغ مکانی: 

مثال		معنی			مأخذ		مدلول مأخذ

شَآءَ مَ زَیْدٌ	زید ملک شام میں پہنچا	                        اَلشَامُ                  		ملک شام

    اس مثال میں فاعل (زید) مأخذ( ملک شام )میں پہنچ گیا۔
Flag Counter