(بکر نے اس مصیبت کو برداشت کیا)۔اس مثال میں قَاسٰی فعل باب مفاعلہ سے ہے کہ اس کا مجرد قَسْوَۃٌ، قَاسٰی کے معنی میں استعمال نہیں ہوتا۔
(۴)۔۔۔۔۔۔اِتِّخَاذ:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
ظَائَرَ زَیْدٌ الْمَرْاَئۃَ زید نے عورت کو دایہ بنایا ظِئْرٌ دایہ
اس مثال میں فاعل (زید)نے مفعول (المرء ۃ) کو مأخذ( دایہ) بنایا۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ بُلُوْغِ زَمَانی:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
بَاکَرَ زَیْدٌ زید صبح کے وقت پہنچا بُکْرَۃٌ وقت صبح
اس مثال میں فاعل( زید )مأخذ (صبح )کے وقت پہنچا،یہی بلوغ زمانی ہے۔
(۶)۔۔۔۔۔۔ تَصْیِیْر:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
عَافَاکَ اللہُ اللہ تجھے عافیت دے عَافِیَۃٌ عافیت /آرام
اس مثال میں فاعل( لفظِ اللہ)نے مفعول( ضمیر مخاطب )کو صاحب مأخذ یعنی عافیت والا بنایاہے اور چونکہ جملہ انشائیہ ہے اس لئے ترجمہ دعائیہ