Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
76 - 136
    ان مثالوں میں بالترتیب زید نے بکر کو عین مأخذ یعنی نصرانی کردیا، اوردوسری مثال میں زیدنے چادر کو خیمہ کی طرح بنادیا۔ پہلی مثال کامحلِ استشہاد وہ حدیث پاک بھی ہے جس میں سرکار صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
کُلُّ مَوْلُودٍ یُولَدُ عَلَی الْفِطْرَۃِ فَأَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہِ وَیُنَصِّرَانِہِ أَوْ یُمَجِّسَانِہِ۔
کیونکہ یہاں پر باب تفعیل کے ہی صیغے استعمال فرمائے گئے ہیں۔

(۱۶)۔۔۔۔۔۔ قَصَر: جیسے: ھَلَّلَ زَیْدٌ:( زید نے لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ پڑھا)۔

    اس مثال میں جو شخص لَااِلٰہَ اِلاَّ اللہُ کہے اس کے کلام کو بیان کرنے کے لئے کسی طویل کلام کی بجائے صرف ھَلَّلَ کہہ کر بات کی جاسکتی ہے ،اور اسی اختصارکانام قصر ہے ۔ 

(۱۷)۔۔۔۔۔۔تَخْلِیْط:

مثال		  معنی				مأخذ	مدلولِ مأخذ

سَیَّعَ زَیْدٌ الْحَائِطَ زید نے دیوار کو گارے سے لیپا	                                سِیَاعٌ                     گارا

    اس مثال میں فاعل(زید)نے مفعول دیوار کو مأخذ (گارے) سے لیپا ہے ۔

(۱۸)۔۔۔۔۔۔وُقُوْع:

مثال		 معنی			مأخذ		مدلولِ مأخذ

طَرَّفَ التِّبْنُ	تنکا آنکھ میں گرا		طَرْفٌ		آنکھ

    اس مثال میں فاعل (التبن) مأخذ( آنکھ )میں گر پڑا ۔

(۱۹)۔۔۔۔۔۔إِطْعَامِ مَأخَذ:

مثال		   معنی				مأخذ		مدلولِ مأخذ
Flag Counter