ہے اس میں دو مادے افتراقی اور ایک مادہ اجتماعی ہوتا ہے ۔تعدیہ کا معنی ہے لازم کو متعدی کرنا اور تصییر کا معنی ہے فاعل کا مفعو ل کوصاحب مأخذ بنانا یہاں ان تینوں کی امثلہ ذکرکی جارہی ہیں:
۱۔مادہ اجتماعی کی مثال: جس میں تعدیہ وتصییر دونوں معانی پائے جائیں، جیسے:نَزَّلْتُ زَیْداً۔اس مثال میں تعدیہ کا معنی یوں بنتا ہے کہ مجرد میں یہ فعل نَزَلَ (وہ اترا) لازم ہے،اورتفعیل میں آکر متعدی ہوگیا(یعنی میں نے زید کو اتارا) اور تصییر کا معنی یوں ہوگا: نَزَّلْتُ زَیْداً: اَیْ جَعَلْتُ زَیْد اً ذَا نُزُوْلٍ۔ یعنی میں نے زیدکو صاحب نزول (صاحب مأخذ ) کیا۔
۲۔ افتراقی مادہ کی مثال: جس میں فقط تعدیہ ہو۔ جیسے: مجرد میں فَرِحَ زَیْدٌ لازم ہے اور باب تفعیل میں آکر یہی مادہ فَرَّحْتُ زَیْداً ہوگیا جو کہ متعدی ہے معنی ہے( میں نے زید کو خوش کیا )اس کو تصییر کے معنی میں نہیں لا سکتے ۔
۳۔افتراقی مادہ کی مثال: جس میں فقط تصییر ہو تعدیہ نہ ہو سکے۔ جیسے: وَتَّرْتُ الْقَوْسَ: میں نے قوس (کمان )کو صاحب مأخذ یعنی وتر والا بنادیا، اَیْ جَعَلْتُ الْقَوْسَ ذَا وِتْرٍ۔
(۱۵)۔۔۔۔۔۔تَحْوِیْل:
صورت مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
عین مأخذ نَصَّرَزَیْدٌ بَکْرًا زیدنے بکر کو نصرانی بنادیا نصرانی نصرانی ہونا
مثل مأخذ خَیَّمَ زَیْدٌالرِّدَآءَ زیدنے چادر کو خیمہ بنالیا خَیْمَۃٌ خیمہ