(۹)۔۔۔۔۔۔تَدْرِیْج:جیسے: رَسَّلَ خَالِدٌ( خالد نے آہستہ آہستہ پڑھا)اس مثال میں فاعل (خالد) نے پڑھنے کاکام آہستہ آہستہ کیاہے ۔
(۱۰)۔۔۔۔۔۔صَیْرُوْرَتْ:
مثال معنی مأخذ مدلو لِ مأخذ
عَجَّزَتِ الْمَرْأۃُ عورت بوڑھی ہو گئی عَجُوْزٌ بوڑھی
اس مثال میں فاعل ( اَلْمَرْاَئۃُ)صاحب مأخذ (بوڑھی) ہوگئی ۔
(۱۱)۔۔۔۔۔۔تَحَوُّلْ:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
لَیَّثَ نَعِیْمٌ نعیم شجاعت میں شیر کی مانند ہوگیا لَیْثٌ شیر
اس مثال میں فاعل( نعیم )مأخذ( شیر) کی مثل ہوگیاہے ۔
(۱۲)۔۔۔۔۔۔مُبَالَغَہ: اس کی تین قسمیں ہیں:
۱۔فعل میں مبالغہ ۲۔مفعول میں مبالغہ ۳۔فاعل میں مبالغہ
۱۔فعل میں مبالغہ جیسے: صَرَّحَ الْحَقُّ:(حق خوب ظاہر ہوگیا)۔اس مثال میں نفس فعل یعنی ظہور میں مبالغہ پایاجارہاہے۔
۲۔مفعول میں مبالغہ جیسے: قَطَّعَ زَیْدٌ الثِّیَابَ:( زید نے بہت سے کپڑے کاٹے) اس صورت میں مبالغہ فعل میں نہیں بلکہ مفعول یعنی کپڑوں میں ہورہاہے ۔
۳۔فاعل میں مبالغہ جیسے: مَوَّتَ الْاِبِلُ: (اونٹوں میں موت عام ہوگئی)اس صورت میں مبالغہ فاعل یعنی اونٹوں میں ہورہا ہے ،نہ کہ فعل میں اور نہ ہی مفعول میں ۔
نوٹ: یہ خاصہ باب تفعیل میں زیادہ استعمال ہوتاہے۔
(۱۳/۱۴)۔۔۔۔۔۔ تَعْدِیَہ وتَصْیِیْر: یاد رہے کہ باب إفعال میں یہ بات گزری ہے کہ تعدیہ وتصییر کے مابین عموم وخصوص من وجہ کی نسبت