Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
74 - 136
 (۹)۔۔۔۔۔۔تَدْرِیْج:جیسے: رَسَّلَ خَالِدٌ( خالد نے آہستہ آہستہ پڑھا)اس مثال میں فاعل (خالد) نے پڑھنے کاکام آہستہ آہستہ کیاہے ۔

(۱۰)۔۔۔۔۔۔صَیْرُوْرَتْ: 

مثال		معنی			مأخذ		مدلو لِ مأخذ

عَجَّزَتِ الْمَرْأۃُ	عورت بوڑھی ہو گئی 	عَجُوْزٌ		بوڑھی

     اس مثال میں فاعل ( اَلْمَرْاَئۃُ)صاحب مأخذ (بوڑھی) ہوگئی ۔ 

(۱۱)۔۔۔۔۔۔تَحَوُّلْ: 

مثال		معنی				مأخذ		مدلولِ مأخذ

لَیَّثَ نَعِیْمٌ	نعیم شجاعت میں شیر کی مانند ہوگیا	                                        لَیْثٌ                         		            شیر

    اس مثال میں فاعل( نعیم )مأخذ( شیر) کی مثل ہوگیاہے ۔ 

(۱۲)۔۔۔۔۔۔مُبَالَغَہ: اس کی تین قسمیں ہیں:

۱۔فعل میں مبالغہ    ۲۔مفعول میں مبالغہ    ۳۔فاعل میں مبالغہ

۱۔فعل میں مبالغہ جیسے: صَرَّحَ الْحَقُّ:(حق خوب ظاہر ہوگیا)۔اس مثال میں نفس فعل یعنی ظہور میں مبالغہ پایاجارہاہے۔

۲۔مفعول میں مبالغہ جیسے: قَطَّعَ زَیْدٌ الثِّیَابَ:( زید نے بہت سے کپڑے کاٹے) اس صورت میں مبالغہ فعل میں نہیں بلکہ مفعول یعنی کپڑوں میں ہورہاہے ۔

۳۔فاعل میں مبالغہ جیسے: مَوَّتَ الْاِبِلُ: (اونٹوں میں موت عام ہوگئی)اس صورت میں مبالغہ فاعل یعنی اونٹوں میں ہورہا ہے ،نہ کہ فعل میں اور نہ ہی مفعول میں ۔

نوٹ: یہ خاصہ باب تفعیل میں زیادہ استعمال ہوتاہے۔

(۱۳/۱۴)۔۔۔۔۔۔ تَعْدِیَہ وتَصْیِیْر: یاد رہے کہ باب إفعال میں یہ بات گزری ہے کہ تعدیہ وتصییر کے مابین عموم وخصوص من وجہ کی نسبت