Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
67 - 136
زَیْدٌ عَمْروًا ذَاخُرُوْجٍ، (زید نے عمرو کو صاحبِ خروج بنا دیا)۔ 

نوٹ: تعدیہ وتصییر کے درمیان عام خاص من وجہ کی نسبت ہے ان میں ایک مادہ اجتماعی اور دو مادے افتراقی ہوتے ہیں۔

۱۔اجتماعی مادہ کی مثال:

(جس میں تعدیہ وتصییردونوں پائے جائیں) جیسے: أَخْرَجَ زَیْدٌ عَمْروًا۔ اس میں تعدیہ والا معنی یوں ہے کہ یہ مجرد میں لازم (خَرَجَ) تھا مزید فیہ میں آکر متعدی بن گیا، خَرَجَ سے أَخْرَجَ ہوگیا۔اَخْرَجَ زَیْدٌ عَمْروًا۔ تصییر والا معنی یوں ہے :جَعَلَ زَیْدٌ عَمْروًا ذَاخُرُوْجٍ( زید نے عمرو کو نکلنے والا بنادیا)۔

افتراقی مادہ کی پہلی مثال :

    جس میں فقط تعدیہ ہو ،جیسے: أَبْصَرْتُہ، : (میں نے اسے دیکھا)۔ اس میں تصییر والا معنی نہیں بناسکتے، یعنی جَعَلْتُہ، ذَا بَصِیْرَۃٍ نہیں کہہ سکتے اور جَعَلْتُہ، بَاصِرًا بھی نہیں کہہ سکتے۔

افتراقی مادہ کی دوسری مثال:

     جس میں فقط تصییرہو۔ جیسے: اَنَزْتَ الثَّوْبَ:( تونے کپڑے کو نقش والا بنادیا)۔اس مثال میں تعدیہ نہیں پایاجارہا بلکہ اس کامعنی ہوگاجَعَلْتَ الثَّوْبَ ذَانِیْزٍ(تو نے کپڑے کونقش ونگار والا کردیا)۔اور یہ تصییر ی معنی ہے ۔

(15)۔۔۔۔۔۔ضَرْبِ مَأخَذ: 

مثال			معنی			مأخذ		مدلولِ مأخذ

اَمْتَنَ زَیْدٌ خَالِداً 	زید نے خالد کو پیٹھ پر مارا	                مَتَنٌ                   		پیٹھ