Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
66 - 136
(13)۔۔۔۔۔۔تَعْدِیَہ: تعدیہ کا معنی ہے لازم کو متعدی کرنا۔

نوٹ: لازم کو متعدی کرنے کا معنی یہ ہے کہ وہ فعل جو مجرد میں مفعول کا تقاضا نہیں کرتاتھا مزید فیہ میںآکر وہ مفعول کاتقاضاکرنے لگے اور مزید فیہ میں تعدیہ کی تین صورتیں بنتی ہیں: ۔

۱۔جو فعل مجرد میں لازم ہو وہ مزید فیہ میں متعدی بیک مفعول ہو جائے گا۔ مثال خَرَجَ زَیْدٌمجرد ہے اور فعل لازم ہے۔جب مزید فیہ میں تبدیل ہوگا تو باب إفعال میں جاکر متعدی بن جائے گاتو أَخْرَجَ زَیْدٌ عَمْرًوا ،زید نے عمرو کونکالاہو جائے گا۔

۲۔اگر کوئی فعل مجرد میں متعدی بیک مفعول ہو تو مزید فیہ میں متعدی بدو مفعول ہو جائے گا۔ مثال: حَفَرَ زَیْدٌ نَہْراً سے أَحْفَرْ تُ زَیْداً نَہْراً ہو جائے گا۔یعنی میں نے زید سے نہر کھودوائی ۔

۳۔اگر کوئی فعل مجرد میں متعدی بدو مفعول ہو تو مزید فیہ میں متعدی بسہ مفعول ہو جائے گا۔ مثال: مجرد میں عَلِمَ متعدی بدو مفعول ہے ۔جیسے: عَلِمْتُ زَیْدًا فَاضِلاً،مزید فیہ میں متعدی بسہ مفعول ہوجائے گا۔ جیسے: أَعْلَمْتُہ، زَیْدًا فَاضِلاً۔

(14)۔۔۔۔۔۔ تَصْیِیر:

مثال			معنی 		مأخذ		مدلو لِ مأخذ

ـ اَخْرَجَ زَیْدٌعَمْروًا	زید نے عمرو کو نکالا	                  خُرُوْجٌ 		            نکلنا

     اس مثال میں فاعل (زید) نے مفعول عمرو کو مأخذ (خُرُوج) والا بنادیا اور اس کو نکال دیا ۔اس طرح تصییری معنی یہ ہوں گے کہ جَعَلَ