صیرورت کی ایک قسم یہ ہے کہ فاعل کا خاص ایسے وقت میں داخل ہونا جس سے اَفْعَلُ کا صیغہ مشتق ہے۔جیسے:أَصْبَحَ وأَمْسٰی وأَفْجَرَ وأَشْہَرَ (یعنی وہ صبح ،شام،وقتِ فجراور ماہ میں داخل ہوا )۔
اسکے علاوہ ایک صورت یہ ہے کہ فاعل کا کسی بھی ایسے وقت میں داخل ہونا جس سے اَفْعَلُ کاصیغہ مشتق ہے۔جیسے:اَئشْمَلْنَا(شمال کی ہوا کے وقت میں ہم داخل ہوئے)واَئجْنَبْنَا (جنوب کی ہوا کے وقت میں ہم داخل ہوئے)واَئصْبَیْنَا (صبا کی ہوا کے وقت میں ہم داخل ہوئے)واَئدْبَرْنَا(دبور کی ہوا کے وقت میں ہم داخل ہوئے)۔
(11)۔۔۔۔۔۔ تَحَوُّلْ:
مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
اَشْمَلَتِ الرِّیْحُ ہو ا عین شمالی ہوگئی شِمَالٌ جہت شمال
اس مثال میں فاعل (الریح) عین مأخذ( شمال والی) ہوگئی ۔
(12)۔۔۔۔۔۔ مبالغہ: اس کی بھی دو صورتیں بنتی ہیں:
۱۔مقدار میں کثرت کو بیان کرنا۔ ۲۔کیفیت میں زیادتی بیان کرنا۔
صورت مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ
اول أَثْمَرَ النَّخْلُ کھجور کے درخت میں بہت پھل لگا ثَمَرٌ پھل
ثانی أَسْفَرَا لصُّبْحُ صبح خوب روشن ہوگئی اُسْفُوْرٌ روشنی
ان مثالو ں میں سے پہلی میں کھجوروں کی مقدار کی کثرت بیان کی گئی ہے ،جبکہ دوسری مثال میں صبح کے اجالے کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔