Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
64 - 136
أَخْشَفَتِ الظَّبْیَۃُ	ہرنی بچے والی ہوگئی		خَشْفٌ 		ہرن کابچہ

     اس مثال میں فاعل( ہرن ) مأخذ (بچہ والی) ہوگئی ۔

شرح شافیہ ابن حاجب میں ہے:
    یَجِئُی أَفعلَ بِمعنی حَانَ وقتٌ یَسْتَحِقُّ فِیہ فاعلُ أفعلَ أن یُوْقَعَ علیہ أصلُ الفعلِ، کَاَئحْصَدَ: أی حَانَ أن یُحْصَدَ، فَقَالَ المصنفُ: ہو فی الحقیقۃِ بمعنی صَارَ ذَا کذا، أی: صَارَ الزَّرْعُ ذَا حصادٍ، وذلک بِحَیْنُوْنَۃِ حَصَادِہ، ونحوہ أجَدَّ النَّخْلُ وأقْطَعَ۔ ویَجوزُ أن یکونَ أَلامَ مثلہ: أی حَانَ أن یُلامَ ومن ہذ النوعِ۔ أی:صیرورتہ ذا کذا۔ دخولُ الفاعل فی الوقتِ المُشْتَقِّ منہ أفعلَ، نحو أصبحَ وأمسی وأفجرَ وأشہرَ: أی دَخَلَ فی الصباحِ والمساءِ والفجرِ والشہرِ، وکذا منہ دخولُ الفاعلِ فی وقتٍ ما اشْتَقَّ منہ أَفْعلَ، نحو أَشْمَلنَا وأَجْنَبْنا وأَصْبَیْنَا وأَدْبَرْنا: أی دَخَلْنَا فی أوقاتِ ہذہِ الرِّیَاحِ ۔
    یعنی باب إفعال کا ایک خاصہ صیرورت ہے یعنی افعل کے فاعل میں ایسے وقت کا استحقاق (یعنی ثبوت)ہو کہ ا س پر اصل فعل کا وقوع ہو۔ جیسے: اَئ حْصَد(َکھیتی کاٹنے کا وقت آگیا )۔علامہ ابن حاجب نے کہا کہ اس معنی میں (کہ وہ چیز ایسی ہو گئی)استعمال حقیقت ہے یعنی کھیت کاٹنے والا ہو گیا اور یہ اسی وقت ہوتا ہے جب کٹائی کا وقت ہو اور ایسے ہی اَجَدَّ النَّخْلُ وَ اَقْطَعَ (کھجوریں کاٹنے کا وقت آگیا) ہیں،اسی کی مثل أَلامَ کہنا بھی جائز ہے یعنی (ملامت کرنے کا وقت آگیا )۔
Flag Counter