Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
63 - 136
(یعنی ثلاثی مجرد میں اسکا معنی تھا معدے کا فاسد یا خراب ہونا ہونا کَمَا یُقَالُ عَرِبَتْ مِعْدَتُہ اور مزید فیہ میں معنی ہوگا معدے سے فساد کو دورکرنا)،ایسے ہی لفظِ مُعْجَم جو کہ أَعْجَمَ سے بنا ہے اسمیں بھی ہمزہ سلب کا ہے کہ ثلاثی مجرد میں اسکا معنی ہے پوشیدہ ہونا اور مزید فیہ میں اسکا معنی ہے پوشیدگی دور کرنااورمُعْجَم کو مُعْجَم اسی وجہ سے کہا جاتا ہے کہ اس میں الفاظ سے پوشیدگی دورکرکے انکی وضاحت کی جاتی ہے ۔(سِرُّالصناعۃ،المعاجم اللغویۃ)

(7)۔۔۔۔۔۔ قَطْعِ مَأخَذ:

مثال		معنی			مأخذ		مدلولِ مأخذ

أَزْرَعَ عَمْروٌ	عمرو نے کھیتی کاٹی		زَرْعٌ		کھیتی

    اس مثال میں فاعل (عمرو) نے مأخذ( کھیتی) کو کاٹا ۔

(8)۔۔۔۔۔۔اعطائے مأخَذ: 

مثال		معنی 			مأخذ		مدلولِ مأخذ	

أَفْطَرَ زَیْدٌ عَمْرواً	زید نے عمرو کو ناشتہ دیا	فُطُوْرٌ		ناشتہ /صبح کاکھانا

     اس مثال میں (زید)فاعل نے (عمرو) مفعول کو مأخذ( ناشتہ) دیا 

(9)۔۔۔۔۔۔تدریج: جیسے:أَدْیَفَہ، بَکْرٌ( بکر آہستہ آہستہ چلایا)۔

    اس مثال میں فاعل(بکر) نے چلانے /چیخنے کاکام آہستہ کیا۔

(10)۔۔۔۔۔۔صَیْرُوْرَتْ:

مثال			معنی 			مأخذ		مدلول مأخذ