| خاصیات ابواب الصرف |
یعنی (میں نے اسے سَقَاکَ اللہُ یا سُقْیا لک کی دعا دی)۔ دعا کے باب میں اکثر فَعَّلَ مستعمل ہے۔جیسے:
جَدَّعَہ وعَقَّرَہ:اَیْ:قَالَ جَدَّعَہ اللہُ وعَقَّرَہ
یعنی (اللہ اسے تباہ وبرباد کرے )اور اسی معنی میں باب إفعال داخل ہے لیکن واضح رہے کہ تمام معانی میں نقل کو دخل ہے عقل کو نہیں۔مذکورہ معانی کے علاوہ أَفْعَلَ دیگر معانی میں بھی مستعمل ہے لیکن مذکورہ معانی کے ضوابط کی طرح انکا کوئی ضابطہ نہیں ۔جیسے:أَبْصَرَہ:أَیْ رآہ (اس نے اسے دیکھا) أَوْ عَزْتُ إلیہ :أَیْ تَقَدَّمْت(ُ میں اسکی طرف بڑھا )۔ (شرح شافیہ ابن حاجب) (4)۔۔۔۔۔۔ اِتِّخَاذ: مثال معنی مأخذ مدلولِ مأخذ