(زید نے رسوا کیا)۔ دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۴۔موافقت تَفَعُّل: باب إفعال کا باب تفعل کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
تَعَرّٰی بَکْرٌ وَ أَعْرٰی بَکْرٌ:
( بکر نے کپڑے اتارلیے)۔دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۵۔موافقت اِفْعِلاَ ل: باب إفعال کا باب افعلال کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
اِزْرَقَّتْ عَیْنُہ، وَ أَزْرَقَتْ عَیْنُہ، :
( اس کی آنکھ نیلگوں ہوئی) دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۶۔موافقت اِنْفِعَال:باب إفعال کا باب انفعال کے ہم معنی ہونا۔ جیسے:
أَمْلَعَتِ النَّاقَۃُ وَ اِنْمَلَعَتِ النَّاقَۃُ:
(اونٹنی تیز دوڑی) دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۷۔موافقت اِسْتِفْعَال: باب إفعال کا باب استفعال کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
أَعْصَمَ زَیْدٌ وَ اِسْتَعْصَمَ زَیْدٌ:
( زید باز رہا) دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۸۔موافقت تَفَاعُل:باب إفعال کا باب تفاعل کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
تَیَامَنَ زَیْدٌ وَ أَیْمَنَ زَیْدٌ:
(زید ملک یمن گیا) دونوں فعل ہم معنی ہیں۔
۹۔موافقت اِفْعِیْعَال:باب إفعال کا باب افعیعال کے ہم معنی ہونا۔جیسے:
أَخْلَقَ الثَّوْبُ وَ اِخْلَوْلَقَ الثَّوْبُ:
( کپڑے بوسید ہ ہوگئے) دونوں فعل ہم معنی
ہیں۔
(3)۔۔۔۔۔۔ ابتداء:ابتداء کی دو قسمیں ہیں:
۱۔کسی ایسے فعل کا باب إفعالسے استعمال ہونا جس کامجرد اصلا مستعمل نہ ہو۔ جیسے: أَرْقَلَ زَیْدٌ (زید نے جلدی کی)یہ أرقل ایسافعل ہے جس کا سرے سے مجرد ہی نہیں ہے۔
۲۔کسی ایسے فعل کا باب إفعال سے استعمال ہوناجس کا مجرد تو ہو مگر مجرد میں جو معنی ہے مزید فیہ میں آکروہ معنی باقی نہ رہے ۔ جیسے: أَشْفَقَ زَیْدٌ (زید ڈرا) مجرد میں یہ مادہ مہربانی وشفقت کے معنی میں آتا ہے ڈرنے کے معنی میں نہیں آتا، حالانکہ باب إفعال میں یہی مادہ ڈرنے کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔
نوٹ:
أَفْعَلَ دعا کے معنی میں بھی آیا ہے۔جیسے: