Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
56 - 136
وضاحت:

     یہ بات ذہن نشین رہے کہ حسن کا معنی رنگ کی چمک دمک ، جسم کی لچک اور نرمی وملائمت نہیں کیونکہ یہ سب عارضی اوصاف ہیں بلکہ حسن کا مطلب ہے مناسب اعضاء جس میں کچھ استحکام ہوتا ہے۔

(۲)۔۔۔۔۔۔ اوصاف ِحکمی:

    یہ اوصاف ابتداءً     اوصاف حقیقی کی طرح پائیدار تو نہیں ہوتے مگر بعد میں موصوف کی ذات میں کسب کے ذریعے حقیقی کی طرح پائیدار ہوجاتے ہیں۔ جیسے: فَقُہَ مَدَنِیٌّ: (مدنی فقیہ ہوا)۔ یہ جملہ اس وقت بولا جاتا ہے جب صفتِ فقاہت مَدَنِیٌّ (موصوف کی ذات) کا خاصہ لازمہ اور ملکہ راسخہ بن جائے اور موصوف (مَدَنِیٌّ) کی ذات سے صفت لازم کی طرح جدا نہ ہو سکے۔

(۳)۔۔۔۔۔۔مشابہ بخلقی:

     یا وہ صفت پائیدار تو نہ ہو مگر اوصاف لازمہ کے مشابہ ہو ۔ جیسے: جَنُبَ: (وہ جنابت والا ہوا) جنابت اگرچہ صفت عارضی ہے لیکن یہ نجاست ذاتی وخلقی کے مشابہ ہے۔