Brailvi Books

خاصیات ابواب الصرف
55 - 136
جَنُبَتِ الرِّیْحُ(عین مأخذ)ہوا عین جنوبی ہوگئی		جَنُوْبٌ 		سمت جنوب

ذَوُئبَ تَوْقِیْرٌ(مثل مأخذ) 	توقیر بھیڑیے کی طرح ہوگیا	ذِئْبٌ		بھیڑیا

    پہلی مثال میں فاعل (اَلرِّیْحُ) عین مأخذ( جنوبی سمت) کی ہوگئی اور دوسری مثال میں فاعل (توقیر) مثل مأخذیعنی بھیڑیئے کی مثل ہوگیا ۔

(8)۔۔۔۔۔۔ تَعَجُّبْ:

    مجہول السبب چیز کے جاننے سے فاعل کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اسے تعجب کہتے ہیں۔اور یہ خاصیت باب کَرُمَ یَکْرُمُ میں پائی جاتی ہے۔جیسے:طَمُعَ الرَّجُلُ( مرد کتنا طمع اور لالچ کرنے والا ہوا)۔

(9)۔۔۔۔۔۔ لُزُوْم :

    یہ باب ہمیشہ فعلِ لازم ہی سے آتاہے۔ 

اہم نوٹ:

    ماقبل خاصیات کے علاوہ باب کَرُمَ کا ایک مشہور خاصہ یہ بھی ہے کہ اس باب کا مأخذ ایسے اوصاف سے متصف ہوتا ہے جن اوصاف کو جبلی اور فطری طور پر پیدا کیا گیا۔

     ان اوصاف کی تین قسمیں ہیں :    ۱۔خلقی ۲۔حکمی ۳۔مشابہ بخلقی

(۱)۔۔۔۔۔۔اوصاف ِخلقی:

    اس سے مراد وہ اوصاف ہیں جو موصوف کے اندر پیدائشی وخلقی طور پر موجود ہوں۔ جیسے: حَسُنَ وَارِثٌ( وارث خوبصورت ہوا).