مَنَحَ زَیْدٌ بَکْرًا زید نے بکر کو عطیہ دیا مِنْحَۃٌ عطیہ/تحفہ
اس مثال میں فاعل( زید)نے مفعول (بکر) کو مأخذ( عطیہ )دیا۔
(10)۔۔۔۔۔۔سَلْبِ مأخذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
حَمَأْتُ الْبِیْرَ میں نے کنویں سے کیچڑ کو دور کردیا حَمْاَئۃٌ کیچڑ
اس مثال میں فاعل( ذات متکلم) نے بئر سے مأخذ(کیچڑ )کو دور کردیا۔
(11)۔۔۔۔۔۔ضَرْبِ مأخذ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
ظَہَرَ زَیْدٌ خَالِدًا زید نے خالد کو پیٹھ پر مارا ظَہْرٌ پیٹھ
اس مثال میں فاعل(زید)نے مأخذ (پیٹھ )پر مارا۔
(12)۔۔۔۔۔۔صَیْرُوْرَت:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
فَقَحَتِ النَّبَاتُ پودا کلی والاہوگیا فَقْحٌ کلی
اس مثال میں فاعل (النبات) صاحب مأخذ یعنی کلی والا ہوگیا۔
نوٹ:
اس باب کی ایک اعتباری خصوصیت یہ ہے کہ اس کا ایک لفظی خاصہ بھی ہوتاہے جبکہ دوسرے ابواب کا کوئی خاصہ لفظی نہیں ہوتا، اور وہ لفظی خاصہ یہ ہے کہ جو کلمہ صحیح فَتَحَ یَفْتَحُ کے باب سے آئے اس کے عین یا لام کلمہ کے مقابلے میں حرف حلقی کا ہونا ضروری ہے۔