پشت گھوڑے پر سوار ہوا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔مبالغہ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِعْشَوْشَبَتِ الْاَرْضُ زمین بہت سبز گھاس والی ہوگئی عَشَبٌ گھاس
اس مثال میں مأخذگھاس ہے اوراسی مأخذ کی مقدار میں زیادتی بیان کی گئی ۔
(۴)۔۔۔۔۔۔بلوغ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِعْشَوْشَبَ الْجَمَلُ اونٹ سبز گھاس پر پہنچ گیا عَشَبٌ گھاس
اس مثال میں فاعل (الجمل) مأخذ( گھاس) تک پہنچ گیا۔
(۵)۔۔۔۔۔۔مطاوعت ضَرَبَ یَضْرِبُ: باب اِفْعِیْعَال کا باب ضَرَبَ یَضْرِبُ کے بعد اس غرض سے آنا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیا تھامفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔جیسے: ثَنٰی خَالِدٌ الثَّوْبَ فَاِثْنَوْنٰی: خالد نے نئے کپڑے پہنے تو وہ لپٹ گیا۔
(۶)۔۔۔۔۔۔تدریج: جیسے: اِقْطَوْطٰی زَیْدٌ: زید آہستہ آہستہ چلا۔
اس مثال میں فاعل( زید)نے چلنے کاکام آہستہ آہستہ کیا۔