جیسے: اِنْصَرَفَ زَیْدٌ: زید پھرا۔اس مثال میں فعل اِنْصَرَفَ مفعول بہ کی ضرورت سے مستغنی ہے اسی کو لزوم کہتے ہیں۔
(۵)۔۔۔۔۔۔ بلوغ:
مثال معنی مأخذ مدلول مأخذ
اِنْضَاجَ خَالِدٌ خالد وادی کے موڑ میں داخل ہوا ضَوْجٌ وادی کاموڑ
اس مثال میں فاعل (خالد) مأخذ( وادی کے موڑ) میں داخل ہوا ہے۔
(۶)۔۔۔۔۔۔یُطَاوِعُ أَفْعَلَ: باب إِفْعَال کے بعد باب اِنْفِعَال کا اس غرض سے آناتاکہ معلوم ہوجائے کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیاتھا مفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔ جیسے: أَغْلَقْتُ الْبَابَ فَاِنْغَلَقَ: میں نے دروازہ بند کیا تو وہ بند ہوگیا۔
نوٹ: یطاوع اور مطاوعت میں بظاہرکوئی فرق نہیں ہے مگر یہاں لفظ یطاوع استعمال کرنے کی ایک خاص علت صاحب فصول اکبری نے یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ خاصہ قلیل الاستعمال ہے اس طرف اشارہ کرنے کے لئے مطاوعت کے بجائے یطاوع کااستعمال کیاگیاہے۔
نوٹ: باب اِنْفِعَال کا ایک لفظی خاصہ یہ بھی ہے کہ اس کافاء کلمہ، لام، نون ، میم، را، اور حروف لین نہیں ہوتا،کیونکہ ان حروف سے ثقل پیدا ہوتاہے اور ایسے حروف والے افعال کے لئے باب اِنْفِعَال کی بجائے باب اِفْتِعَال استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً: نَقَلَ اور رَفَعَ کو اِنْرَفَعَ اور اِنْنَقَلَ کی بجائے اِنْتَقَلَ اور اِرْتَفَعَ پڑھیں گے۔