کپڑا پھٹ گیا۔ دونوں باب ہم معنی ہیں۔
(۲)۔۔۔۔۔۔مطاوعت:باب اِنْفِعَال درج ذیل ابواب کی مطاوعت کرتاہے:
۱۔ مطاوعت ضَرَبَ یَضْرِبُ: باب اِنْفِعَال کا باب ضَرَبَ یَضْرِبُ کے بعد اس غرض سے آنا تا کہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پرجو اثر کیا تھامفعول نے اس اثرکو قبول کرلیاہے۔ جیسے:
عَصَمَ بَکْرٌ وَلِیْداً فَاِنْعَصَمَ:
بکر نے ولید کی حفاظت کی تو وہ محفوظ ہوگیا۔
۲۔مطاوعت فَتَحَ یَفْتَحُ: باب اِنْفِعَال کا باب فَتَحَ یَفْتَحُ کے بعد اس غرض سے آنا تاکہ یہ ظاہر ہو کہ پہلے فعل کے فاعل نے اپنے مفعول پر جو اثر کیاتھامفعول نے اس اثر کو قبول کرلیاہے۔ جیسے:
زَعَجَ شُعَیْبٌ حَسَنًا فَاِنْزَعَجَ:
شعیب نے حسن کو بیقرار کیا تو وہ بے قرار ہوگیا۔
(۳)۔۔۔۔۔۔ابتداء: کسی فعل کا ابتداءً باب اِنْفِعَال سے ایسے معنی کے لئے آنا جس معنی میں اس کا مجرد استعمال نہ ہوا ہو۔ جیسے: اِنْطَلَقَ زَیْدٌ: زید چلا گیا۔
اس مثال میں اِنْطَلَقَ کامعنی چلنا ہے اور اس کامجرد طلق چلنے کے معنی میں استعمال نہیں ہوا بلکہ وہ دور ہونے کے معنی دیتاہے۔
(۴)۔۔۔۔۔۔ لزوم:باب اِنْفِعَال کا مفعول بہ کی ضرورت سے مستغنی ہونا۔