| کراماتِ صحابہ |
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو ان باتوں کا بھی علم عطافرمادیتاہے کہ وہ کب اورکہاں وفات پائیں گے اورکس جگہ انکی قبر بنے گی۔ چنانچہ سینکڑوں اولیاء کرام کے تذکروں میں لکھاہوا ہے کہ ان اللہ والوں نے قبل از وقت لوگوں کو یہ بتا دیا ہے کہ وہ کب؟ اورکہاں ؟اورکس جگہ وفات پاکر مدفون ہوں گے ۔
ضروری انتباہ
اس موقع پر بعض کج فہم اوربدعقیدہ لوگ عوام کو بہکاتے رہتے ہیں کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے :
وَمَا تَدْرِیْ نَفْسٌ م بِاَیِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ(1)
یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اس کو نہیں جانتا کہ وہ کونسی زمین میں مرے گا۔لہٰذا اولیاء کرام کے سب قصے غلط ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید کی یہ آیت حق اور برحق ہے اورہر مؤمن کا اس پر ایمان ہے مگر اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ بغیر اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے کوئی شخص اپنی عقل وفہم سے اس بات کو نہیں جان سکتا کہ وہ کب اورکہاںمرے گا۔لیکن اگراللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوںحضرات انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کوبذریعہ وحی اوراولیاء کرام رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہم کو بطریق کشف وکرامت ان چیزوں کا علم عطا فرمادے تو وہ بھی یہ جان لیتے ہیں کب اورکہاں ان کا انتقال ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو اس بات کو جانتا ہی ہے کہ کون کہاں مرے گا لیکن اللہ تعالیٰ کے بتادینے سے خاصان خدابھی اس بات کو جان لیتے ہیں کہ کون کہاں مرے گا ۔مگر کہاں اللہ تعالیٰ کا علم اورکہاں بندوں کا علم ،اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ، ذاتی اور قدیم ہے اوربندوں کا علم عطائی اورحادث ہے۔ اللہ تعالیٰ کا علم ازلی ، ابدی اورغیر محدود ہے اوربندوں کا علم فانی اورمحدود ہے ۔ اب یہ مسئلہ نہایت ہی صفائی کے ساتھ واضح ہوگیا کہ قرآنی ارشاد کا مفاد کہ
1…ترجمہ کنزالایمان: اور کوئی جان نہیں جانتی کہ کس زمین میں مرے گی۔ (پ۲۱،لقمٰن:۳۴)