Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
96 - 342
اس پانی کی ٹھنڈک میں اپنی دونوں چھاتیوں اوردونوں کندھوں کے درمیان محسوس کرتا ہوں ۔ پھر حضوراکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اے عثمان! اگر تمہاری خواہش ہوتو ان باغیوں کے مقابلہ میں تمہاری امداد ونصرت کروں۔اوراگر تم چاہو تو ہمارے پاس آکر روزہ افطار کرو۔ اے عبداللہ  بن سلام !میں نے خوش ہوکر یہ عرض کردیا کہ یارسول اللہ  ! عزوجل و صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم آپ کے دربار پر انوار میں حاضر ہوکر روزہ افطار کرنا یہ زندگی سے ہزاروں لاکھوں درجے زیادہ مجھے عزیز ہے۔ حضرت عبداللہ  بن سلام رضی اللہ  تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اس کے بعد رخصت ہوکر چلا آیا اوراسی دن رات میں باغیوں نے آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو شہیدکردیا۔(1)
(البدایہ والنہایہ ،ج۷،ص۱۸۲)
اپنے مدفن کی خبر
حضرت امام مالک رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ  نے فرمایا کہ امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ کے قبرستان جنت البقیع کے اس حصہ میں تشریف لے گئے جو "حش کوکب"کہلاتا ہے توآپ نے وہاں کھڑے ہوکر ایک جگہ پر یہ فرمایا کہ عنقریب یہاں ایک مرد صالح دفن کیا جائے گا۔ چنانچہ اس کے بعد ہی آپ کی شہادت ہوگئی ا ورباغیوں نے آپ کے جنازہ مبارکہ کے ساتھ اس قدر ہلڑبازی کی کہ آپ کونہ روضہ منورہ کے قریب دفن کیا جاسکا نہ جنت البقیع کے اس حصہ میں مدفون کیے جاسکے جو کبارصحابہ رضی اللہ  تعالیٰ عنہم کا قبرستان تھا بلکہ سب سے دورالگ تھلگ "حش کوکب"میں آپ سپردِ خا ک کئے گئے جہاں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ یہاں امیرالمؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک بنے گی کیونکہ اس وقت تک وہاں کوئی قبر تھی ہی نہیں ۔(2)
 (ازالۃ الخفاع،مقصد۲،ص۲۲۷)
1…البدایۃ والنھایۃ، ذکرمجیٔ الاحزاب الی عثمان...الخ، ذکر حصر امیر المؤمنین 

عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ،ج۵، ص۲۶۹

2…ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم، اما مآثرامیرالمؤمنین عثمان بن عفان رضی اللہ تعالٰی عنہ، ج۴، ص۳۱۵
Flag Counter