Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
98 - 342
اللہ تعالیٰ کے سواکوئی نہیں جانتا کہ کون کب اورکہاں مرے گا؟اوراہل حق کا یہ عقیدہ کہ اولیاء کرام بھی جانتے ہیں کہ کون کب اورکہاں مرے گا؟یہ دونوں باتیں اپنی اپنی جگہ پر صحیح ہیں اوران دونوں باتوں میں ہرگزہرگزکوئی تعارض نہیں۔کیونکہ جہاں یہ کہا گیا کہ اللہ  تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ کون کب اورکہاں مرے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بغیر خداکے بتائے کوئی نہیں جانتا اورجہاں یہ کہا گیا کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ و السلام واولیاء رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہم جانتے ہیں کہ کون کب اورکہاں مرے گا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام و اولیاء رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہم خدا عزوجل کے بتا دینے سے جان لیتے ہیں۔ اب ناظرین کرام انصاف فرمائیں کہ ان دونوں باتوں میں کونسا تعارض اور ٹکراؤ ہے ؟دونوں ہی باتیں اپنی اپنی جگہ پرسوفیصدی صحیح اوردرست ہیں۔ واللہ  تعالیٰ اعلم۔
شہادت کے بعد غیبی آواز
حضر ت عدی بن حاتم صحابی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ حضرت امیر المؤمنین عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی شہادت کے دن میں نے اپنے کانوں سے سنا کہ کوئی شخص بلند آواز سے یہ کہہ رہا تھا:
"اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِرَوْحٍ وَّرَیْحَانٍ وَّبِرَبِّ غَیْرِ غَضْبَانَ اَبْشِرِ ابْنَ عَفَّانَ بِغُفْرَانَ وَّرِضْوَانَ"
 (یعنی حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو راحت اورخوشبو کی بشارت دو اورنہ ناراض ہونے والے رب کی ملاقات کی خوشخبری سناؤ اور خدا کے غفران ورضوان کی بھی بشارت دے دو) حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میں اس آواز کو سن کر ادھر ادھر نظر دوڑانے لگا اورپیچھے مڑکر بھی دیکھا مگر کوئی شخص نظر نہیں آیا۔(1)
(شواہد النبوۃ،ص۱۵۸)
مدفن میں فرشتوں کا ہجوم
روایت ہے کہ باغیوں کی ہلڑبازیوں کے سبب تین دن تک آپ کی مقدس
1…شواہد النبوۃ، رکن سادس دربیان شواھد ودلایلی...الخ، ص۲۰۹
Flag Counter