Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
95 - 342
بہت بڑا ستار وغفار اورغفورورحیم ہے، لیکن اگر کوئی بدنصیب اس کے محبوب بندوں کی شان میں کوئی گستاخی وبے ادبی کرتاہے تو خداوند قدوس کی قہاری وجباری اس مردود کو ہرگز ہرگز معاف نہیں فرماتی بلکہ ضرور بالضروردنیا وآخرت کے بڑے بڑے عذابوں میں گرفتار کردیتی ہے اوروہ دونوں جہان میں قہر قہار وغضب جبار کا اس طرح سزاوار ہوجاتاہے کہ دنیا میں لعنتوں کی باراورپھٹکاراورآخرت میں عذاب نار کے سوا اس کو کچھ نہیں ملتا۔ رافضی اوروہابی جن کے دین ومذہب کی بنیادہی محبوبان خدا کی بے ادبی پر ہے ہم نے ان گستاخوں اوربے ادبوں میں سے کئی ایک کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ ان لوگوں پر قہر الٰہی کی ایسی مار پڑی ہے کہ توبہ توبہ، الامان۔ اورمرتے وقت ان لوگوں کا اتنا برا حال ہوا ہے کہ توبہ توبہ ۔ نعوذباللہ  !

	اللہ  تعالیٰ ہر مسلمان کو اللہ  والوں کی بے ادبی وگستاخی کی لعنت سے محفوظ رکھے اوراپنے محبوبوں کی تعظیم وتوقیر اوران کے ادب واحترام کی توفیق بخشے۔ (امین)
خواب میں پانی پی کر سیراب
حضرت عبداللہ  بن سلام رضی اللہ  تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جن دنوں باغیوں نے حضر ت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے مکان کا محاصرہ کرلیا اوران کے گھر میں پانی کی ایک بوند تک کا جانا بند کردیا تھا اورحضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ پیاس کی شدت سے تڑپتے رہتے تھے میں آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی ملاقات کے لیے حاضرہوا تو  آپ اس دن روزہ دار تھے ۔ مجھ کو دیکھ کرآپ نے فرمایا کہ اے عبداللہ  بن سلام!آج میں حضور نبی اکرم صلی اللہ  تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دیدار پرانوارسے خواب میں مشرف ہوا توآپ صلی اللہ  تعالیٰ علیہ و الہ وسلم نے انتہائی مشفقانہ لہجے میں ارشادفرمایا کہ اے عثمان! رضی اللہ  تعالیٰ عنہ ظالموں نے پانی بند کر کے تمہیںپیاس سے بے قرار کردیا ہے؟میں نے عرض کیا کہ جی ہاں ! تو فوراً ہی آپ نے دریچی میں سے ایک ڈول میری طرف لٹکا دیا جو نہایت شیریں اور ٹھنڈے پانی سے بھر اہوا تھا ، میں اس کو پی کر سیراب ہوگیا اوراب اس و قت بیداری کی حالت میں بھی
Flag Counter