ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ’’ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے ۔‘‘یہ منظر دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے اس سے پوچھا کہ اے شخص ! تیرا کیا حال ہے ؟ اورکیوں اورکس بناء پر تجھے اپنے جہنمی ہونے کا یقین ہے؟ یہ سن کر اس نے یہ کہا: اے شخص! میرا حال نہ پوچھ، میں ان بدنصیب لوگوں میں سے ہوں جو امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کرنے کے لئے ان کے مکان میں گھس پڑے تھے ۔ میں جب تلوار لے کر ان کے قریب پہنچا تو ان کی بیوی صا حبہ نے مجھے ڈانٹ کر شور مچانا شروع کردیا تو میں نے ان کی بیوی صا حبہ کو ایک تھپڑ ماردیا یہ دیکھ کر امیرالمؤمنین حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی کہ "اللہ تعالیٰ تیرے دونوں ہاتھوں اوردونوں پاؤں
کو کاٹ ڈالے اورتیری دونوں آنکھوں کو اندھی کردے اور تجھ کو جہنم میں جھونک دے۔" اے شخص!میں امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پُر جلال چہرے کو دیکھ کر اوران کی اس قاہرانہ دعا کو سن کر کانپ اٹھا اور میرے بدن کا ایک ایک رونگٹا کھڑا ہوگیا اور میں خوف ودہشت سے کانپتے ہوئے وہاں سے بھاگ نکلا ۔