| کراماتِ صحابہ |
غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد نبوی شریف کے منبر اقدس پر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بالکل ہی اچانک ایک بدنصیب اورخبیث النفس انسان جس کا نام "جہجاہ غفاری"تھا کھڑا ہوگیا اور آپ کے دست مبارک سے عصا چھین کر اس کو توڑ ڈالا۔ آپ نے اپنے حلم وحیاء کی و جہ سے اس سے کوئی مواخذہ نہیں فرمایا لیکن خدا تعالیٰ کی قہاری وجباری نے اس بے ادبی اورگستاخی پر اس مردود کو یہ سزاد ی کہ ا سکے ہاتھ میں کینسر کا مرض ہوگیا اوراس کا ہاتھ گل سڑ کر گرپڑا اوروہ یہ سزا پاکر ایک سال کے اندرہی مرگیا۔(1)
(حجۃ اللہ علی العالمین ج۲،ص۸۶۲وتاریخ الخلفاء،ص۱۱۲)
گستاخی کی سزا
حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں ملک شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ’’ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے ۔‘‘میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم إلی منزلہ فحلب لی عنزا ،7 . (230 (۲) (الثقات لابن حبان)وکان جہجاہ من فقراء المہاجرین وھو الذی أکل عند النبی صلی اللہ علیہ و سلم وهو کافر فأکثر ثم أسلم فأکل فقال لہ النبی صلی اللہ علیہ وسلم المؤمن یأکل فی معی واحد والکافر یأکل فی سبعۃ أمعاء (1؍280) (۳)(أسد الغابۃ) ثم أسلم فلم یستتم حلاب شاۃ واحدۃ (1؍451) (۴)(شرح مشکل الآثار للطحاوی) ثم إنہ أصبح فأسلم (1؍280)(حصہ دوم( (۵) شرح الزرقانی علی المؤطا. ثم أصبح فأسلم۔ (4،393) 1…حجۃاللّٰہ علی العالمین،الخاتمۃفی اثبات کرامات الاولیاء۔۔۔الخ،المطلب الثالث فی ذکرجملۃجمیلۃ۔۔۔الخ،ص۶۱۳