سخت حرام ہے، مسلمانوں کو تو یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ سب حضرات آقائے دو عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے جاں نثار اور سچے غلام ہیں۔(۲)صحابہ کر ام رضی اﷲ تعالیٰ عنھم انبیا ء نہ تھے، فرشتہ نہ تھے کہ معصوم ہوں۔ ان میں بعض کے لیے لغزشیں ہوئیں مگر ان کی کسی بات پر گرفت اﷲو رسول عزوجل و صلی اﷲ تعالیٰ علیہ وسلم کے خلاف ہے۔ (بہار شریعت ۱؍253مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)تفصیل: مذکورہ واقعہ کی تفتیش کرتے ہوئے ہم نے متعددعربی کتبِ سیر وتاریخ وغیرہ دیکھیں لیکن ان میں "بدنصیب اور خبیث النفس" یا اسکی مثل کلمات نہیں ملے چنانچہ "الاستیعاب" میں ہے:وروی أنّ جہجاہ ھذا ھو الذی تَناوَل العصا مِن یَدِ عثمان وھو یَخطبُ فکَسَرَھا یومئذ, فأَخَذتْہ الأَکِلۃُ فی رکبتہ وکانت عصا رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم.(الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب334 /1) وفی "الإصابۃ" بلفظِ: فوضعہا علی رکبتہ فکسرھا....حتی مات. (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ - 1 ؍ 622)۔۔ترجمہ: اور مروی ہے کہ یہ وہی جہجاہ (بن سعید غفاری رضی اللہ عنہ)ہیں جنھوں نے بحالتِ خطبہ عثمانِ غنی (رضی اللہ عنہ)کے دستِ مبارک سے عصا (چھڑی ) چھین کر اپنے گھٹنے پر رکھ کر توڑ دیا تھا تو (سیدنا)جہجاہ (رضی اللہ عنہ)کو گھٹنے میں زخم ہوگیا یہاں تک کہ وہ رحلت فرما گئے۔ وہ عصا مبارک رسول ِ اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا تھا.اِن کی صحابیت کے دلائل: کتب تراجم میں اِن کے متعلق بیان کیا گیا ہے کہ"وہ بیعتِ رضوان میں حاٖضر تھے" شَہِدَ بیعۃَ الرضوانِ بالحدیبیۃ۔ (الإصابۃ فی تمییز الصحابۃ 1؍621)اور متعدد کتب میں عصا توڑنے والا واقعہ انہی کا لکھا ہے ، جس کی تائید "استیعاب" سے بالخصوص ہوتی ہے کہ انھوں نے پہلے اِن کے ایمان لانے کا واقعہ بیان کیا اور پھر " ھذا ھو الذی تَنَاوَلَ العَصَا" کے الفاظ کے ذریعے یہ واضح کر دیا کہ عصا توڑنے والا واقعہ انہی کا ہے۔ (الإستیعاب فی معرفۃ الأصحاب،1 ؍ 334)انکے صحابی ہونےکی صراحت اِن کتب میں بھی کی گئی ہے.(۱) (التمہید لما فی الموطأ من المعانی والأسانید) فلما أسلمتُ دعانی