چونکہ آپ فرط غضب سے مضطرب تھے اس لئے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نماز میں سہو ہوگیا اورآپ اس رنج وغم سے اوربھی زیادہ بے تاب ہوگئے اورانتہائی رنج وغم کی حالت میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ ! عزوجل قبیلہ ثقیف کے لونڈے (حجاج بن یوسف ثقفی )کو ان لوگوں پرمسلط فرمادے جو زمانہ جاہلیت کا حکم چلاکر ان عراقیوں کے نیک وبدکسی کو بھی نہ بخشے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ دعا قبول ہوگئی اورعبدالملک بن مروان اموی کے دور حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر بنا اوراس نے عراق کے باشندوں پر ظلم وستم کا ایسا پہاڑتوڑا کہ عراق کی زمین بلبلااٹھی۔ حجاج بن یوسف ثقفی اتنا بڑا ظالم تھا کہ اس نے جن لوگوں کو رسی میں باندھ کر اپنی تلوار سے قتل کیا ان مقتولوں کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد ہی ہے اورجو لوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کی گنتی کا تو شمار ہی نہیں ہوسکا۔
حضرت ابن لہیعہ محدث نے فرمایا ہے کہ جس وقت امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی تھی اس وقت حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں ہواتھا ۔(1)