Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
86 - 342
چونکہ آپ فرط غضب سے مضطرب تھے اس لئے آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو نماز میں سہو ہوگیا اورآپ اس رنج وغم سے اوربھی زیادہ بے تاب ہوگئے اورانتہائی رنج وغم کی حالت میں آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی کہ یا اللہ  ! عزوجل قبیلہ ثقیف کے لونڈے (حجاج بن یوسف ثقفی )کو ان لوگوں پرمسلط فرمادے جو زمانہ جاہلیت کا حکم چلاکر ان عراقیوں کے نیک وبدکسی کو بھی نہ بخشے ۔ چنانچہ آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی یہ دعا قبول ہوگئی اورعبدالملک بن مروان اموی کے دور حکومت میں حجاج بن یوسف ثقفی عراق کا گورنر بنا اوراس نے عراق کے باشندوں پر ظلم وستم کا ایسا پہاڑتوڑا کہ عراق کی زمین بلبلااٹھی۔ حجاج بن یوسف ثقفی اتنا بڑا ظالم تھا کہ اس نے جن لوگوں کو رسی میں باندھ کر اپنی تلوار سے قتل کیا ان مقتولوں کی تعداد ایک لاکھ یا اس سے کچھ زائد ہی ہے اورجو لوگ اس کے حکم سے قتل کئے گئے ان کی گنتی کا تو شمار ہی نہیں ہوسکا۔

	حضرت ابن لہیعہ محدث نے فرمایا ہے کہ جس وقت امیرالمؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے یہ دعا مانگی تھی اس وقت حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں ہواتھا ۔(1)
(ازالۃ الخفاء، مقصد ۲،ص۱۷۲)
تبصرہ
اس روایت سے معلوم ہوا کہ اللہ  تعالیٰ اپنے اولیاء کرام رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہم کو غیب کی باتوں کا بھی علم عطا فرماتاہے ۔ چنانچہ روایت مذکورہ بالامیں آپ نے ملاحظہ فرما لیا کہ ابھی حجاج بن یوسف ثقفی پیدا بھی نہیں ہوا تھا لیکن امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو یہ معلوم ہوگیا تھا کہ حجاج بن یوسف ثقفی نامی ایک بچہ پیدا ہوگا جو بڑا ہوکر گورنربنے گا اورانتہائی ظالم ہوگا۔
1…ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم،الفصل الرابع،ج۴،ص۱۰۸
Flag Counter