| کراماتِ صحابہ |
ظاہر ہے کہ قبل از وقت ان باتوں کا معلوم ہوجانا یقینا یہ غیب کا علم ہے۔ اب یہ مسئلہ آفتاب عالم تاب سے بھی زیادہ روشن ہوگیا کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کو غیب کا علم عطا فرماتاہے توپھر انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام خصوصاًحضور سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یقینا علوم غیبیہ کا خزانہ عطافرمایا ہے اوریہ حضرات بیشمار غیب کی باتوں کو خدا تعالیٰ کے بتادینے سے جانتے ہیں اوردوسروں کو بھی بتاتے ہیں۔ چنانچہ اہل حق حضرات علماء اہل سنت کا یہی عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام بالخصوص حضورسیدالانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کو بے شمار علوم غیبیہ کے خزانے عطا فرمائے ہیں اوریہی عقیدہ حضرات تابعین وحضرات صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا بھی تھا۔ چنانچہ مواہب اللدنیہ شریف میں ہے کہ
قَدِ اشْتَھَرَ وَانْتَشَرَ اَمْرُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَصْحَابِہِ بِالْاِطِّلَاعِ عَلَی الْغُیُوْبِ(1)
(جناب رسول اللہ عزوجل وصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم غیوب پر مطلع ہیں یہ بات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم میں عام طور پر مشہور اورزبان زدخاص وعام تھی)
اسی طرح مواہب ا للدنیہ کی شرح میں علامہ محمد بن عبدالباقی زرقانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحریرفرمایاہے :وَاَصْحَابُہُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ جَازِمُوْنَ بِاِطِّلَاعِہِ عَلَی الْغَیْبِ(2)
(یعنی صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہ پختہ عقیدہ تھا کہ حضورعلیہ الصلوۃ والسلام غیب کی باتوں پر مطلع ہیں)ان دو بزرگوں کے علاوہ دوسرے بہت سے ائمہ کرام نے بھی اپنی اپنی
1…المواہب اللدنیۃ بالمنح المحمدیۃ، المقصد الثامن فی طبہ...الخ، الفصل الثالث فی انبائہ بالانباء المغیبات،ج۳،ص۹۱ 2…شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ، النوع الثالث فی طبہ۔۔۔الخ، الفصل الثالث فی انبائہ۔۔۔الخ،ج۱۰،ص۱۱۳