Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
85 - 342
	"اشتر"کے شروفساد سے امت کے محفوظ رہنے کی دعامانگی اور"اسودتجیبی"سے اس بناء پر منہ پھیرلیا اوراسلامی لشکر میں اس کو بھرتی کرنے سے انکار کردیا کہ یہ دونوں حضرت عثمان غنی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے قاتلوں میں سے تھے اورچھبیس برس پہلے آپ نے عبدالرحمن بن ملجم مرادی کو بنظر کراہت دیکھا اوراسلامی لشکر میں اس بناء پر بھرتی نہیں فرمایا کہ وہ حضرت علی رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کا قاتل تھا۔

	ان مستندروایتوں سے یہ ثابت ہوتاہے کہ اولیاء کرام کو خداوند قدوس کے بتادینے سے آدمیوں کی تقدیروں کا حال معلوم ہوجاتا ہے۔ اسی لئے حضرت مولانا جلال الدین رومی رحمۃ اللہ  تعالیٰ علیہ نے اپنی مثنوی شریف میں فرمایا ہے    ؎
لوح محفوظ است پیش اولیاء

از چہ محفوظ است محفوظ از خطاء
یعنی لوح محفوظ اولیاء کرام کے پیش نظر رہتی ہے جس کو دیکھ کر وہ انسانوں کی تقدیروں میں کیا لکھا ہے؟اس کو جان لیتے ہیں۔ لوح محفوظ کو اس لئے لوح محفوظ کہتے ہیں کہ وہ غلطیوں اورخطاؤں سے محفوظ ہے ۔
دعا کی مقبولیت
ابو ہدبہ حمصی کا بیان ہے کہ جب امیرالمؤمنین حضرت عمررضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو یہ خبر ملی کہ عراق کے لوگوں نے آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کے گورنر کو اس کے منہ پرکنکریاں مارکر اور ذلیل و رسواکر کے شہر سے باہر نکال دیا ہے توآپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو اس خبر سے انتہائی رنج وقلق ہوا اورآپ بے انتہاغضبناک ہوکر مسجد نبوی علی صاحبھا الصلوۃ و السلام میں تشریف لے گئے اوراسی غیظ وغضب کی حالت میں آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے نماز شروع کردی لیکن
Flag Counter