امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کو سر سے پیر تک باربار گرم گرم نگاہوں سے دیکھتے رہے پھر مجھ سے دریافت فرمایا کہ کیا یہ شخص تمہارے ہی قبیلہ کا ہے ؟میں نے کہا کہ ’’جی ہاں‘‘ اس وقت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ خداعزوجل اس کو غارت کرے اور اس کے شروفساد سے اس امت کو محفوظ رکھے ۔ امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس دعا کے بیس برس بعد جب باغیوں نے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہید کیا تو یہی ’’اشتر‘‘اس باغی گروہ کا ایک بہت بڑا لیڈر تھا۔
اسی طرح ایک مرتبہ حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ ملک شام کے کفار سے جہاد کرنے کے لیے لشکر بھرتی فرمارہے تھے۔ ناگہاں ایک ٹولی آپ کے سامنے آئی تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انتہائی کراہت کے ساتھ ان لوگوں کی طرف سے منہ پھیرلیا۔ پھر دوبارہ یہ لوگ آپ کے روبروآئے تو آپ نے منہ پھیرکر ان لوگوں کو اسلامی فوج میں بھرتی کرنے سے انکار فرمادیا۔ لوگ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس طرز عمل سے انتہائی حیران تھے لیکن آخر میں یہ راز کھلا کہ اس ٹولی میں "اسودتجیبی"بھی تھا جس نے اس واقعہ سے بیس برس بعد حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی تلوار سے شہید کیا اوراس ٹولی میں عبدالرحمن بن ملجم مرادی بھی تھا جس نے اس واقعہ سے تقریباًچھبیس برس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنی تلوار سے شہید کرڈالا۔(1)