فرمایا تھا درحقیقت یہ اسی مظلوم مجاہد کی فریاد وپکارکا جواب تھا ۔ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سپہ سالارکا بیان سن کر غیظ وغضب میں بھر گئے اورفرمایاکہ سر دموسم اور ٹھنڈی ہواؤں کے جھونکوں میں اس مجاہد کودریا کی گہرائی میں اتارنا یہ قتل خطا کے حکم میں ہے ،لہٰذا تم اپنے مال میں سے اس کے وارثوں کو اس کا خون بہا ادا کرواورخبردار! خبردار!آئندہ کسی سپاہی سے ہرگز ہرگز کبھی کوئی ایسا کام نہ لینا جس میں اس کی ہلاکت کا اندیشہ ہوکیونکہ میرے نزدیک ایک مسلمان کا ہلاک ہوجانا بڑی سے بڑی ہلاکتوں سے بھی کہیں بڑھ چڑھ کر ہلاکت ہے۔(1)
امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وفات پانے والے سپاہی کی فریاد اور پکار کو سینکڑوں میل کی دوری سے سن لیا اوراس کا جواب بھی دیا۔ اس روایت سے ظاہر ہوتاہے کہ اولیاء کرام دور کی آوازوں کو سن لیتے ہیں اوران کا جواب بھی دیتے ہیں ۔
روایت ہے کہ بادشاہ روم کا بھیجا ہوا ایک عجمی کا فرمدینہ منورہ آیا اورلوگوں سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا پتہ پوچھا، لوگوں نے بتادیا کہ وہ دوپہر کو کھجور کے باغوں میں شہر سے کچھ دور قیلولہ فرماتے ہوئے تم کو ملیں گے ۔ یہ عجمی کافر ڈھونڈتے ڈھونڈتے
1…ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفائ، مقصد دوم،الفصل الرابع،ج۴،ص۱۰۹
(ازالۃ الخفاء ، مقصد۲،ص۱۷۲)