آپ کے پاس پہنچ گیااور یہ دیکھا کہ آپ اپنا چمڑے کا درّہ اپنے سر کے نیچے رکھ کر زمین پر گہری نیند سو رہے ہیں ۔ عجمی کافر اس ارادے سے تلوار کو نیام سے نکال کر آگے بڑھا کہ امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قتل کر کے بھاگ جائے مگر وہ جیسے ہی آگے بڑھابالکل ہی اچانک اس نے یہ دیکھا کہ دو شیر منہ پھاڑے ہوئے اس پر حملہ کرنے والے ہیں۔ یہ خوفناک منظر دیکھ کر وہ خوف ودہشت سے بلبلا کر چیخ پڑا اور اس کی چیخ کی آواز سے امیر المؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدارہوگئے اوریہ دیکھا کہ عجمی کافر ننگی تلوار ہاتھ میں لئے ہوئے تھرتھرکانپ رہا ہے ۔ آپ نے اس کی چیخ اوردہشت کا سبب دریافت فرمایا تو اس نے سچ مچ ساراواقعہ بیان کردیا اورپھر بلند آواز سے کلمہ پڑھ کر مشرف بہ اسلام ہوگیا اور امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کے ساتھ نہایت ہی مشفقانہ برتاؤ فرماکر اس کے قصور کو معاف کردیا۔(1)