Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
79 - 342
تبصرہ
اس روایت سے یہ ثابت ہوتاہے کہ امیرالمؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی حکومت جس طرح ہوا ، پانی ، آگ پر تھی اسی طرح زمین پر بھی آپ کے فرمان شاہی کا سکہ چلتا تھا۔ مذکورہ بالا چاروں کرامتوں سے معلوم ہوا کہ اولیاء اللہ  کی حکومت ہوا ، آگ ، پانی اورمٹی سبھی پر ہے اور چونکہ یہ چاروں اربع عناصر کہلاتے ہیں یعنی انہیں چاروں سے تمام کائنات عالم کے مرکبات بنائے گئے ہیں ،تو جب ان چاروں عناصر پر اولیاء کرام کی حکومت ثابت ہوگئی تو جو جو چیزیں ان چاروں عناصرسے مرکب ہوئی ہیں ظاہر ہے کہ ان پر بطریق اولیٰ اولیاء کرام کی حکومت ہوگی ۔
دور سے پکار کا جواب
        حضرت امیرالمؤمنین فاروق اعظم رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے سرزمین روم میں مجاہدین اسلام کا ایک لشکر بھیجا ۔ پھر کچھ دنوں کے بعد بالکل ہی اچانک مدینہ منورہ میں نہایت ہی بلندآواز سے آپ نے دو مرتبہ یہ فرمایا :
  یَالَبَّیْکَاہُ!یَالَبَّیْکَاہُ!
(یعنی اے شخص! میں تیری پکار پر حاضر ہوں)اہل مدینہ حیران رہ گئے اوران کی سمجھ میں کچھ بھی نہ آیا کہ امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کس فریاد کرنے والے کی پکار کا جواب دے رہے ہیں؟ لیکن جب کچھ دنوں کے بعد وہ لشکر مدینہ منورہ واپس آیا اوراس لشکر کا سپہ سالاراپنی فتوحات اور اپنے جنگی کارناموں کاذکر کر نے لگا تو امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ ان باتوں کو چھوڑدو! پہلے یہ بتاؤ کہ جس مجاہد کو تم نے زبردستی دریا میں اتاراتھا اوراس نے
(اے میرے عمر!میری خبرلیجئے ) پکارا تھا اس کا کیا واقعہ تھا۔
	سپہ سالارنے فاروقی جلال سے سہم کر کانپتے ہوئے عرض کیا کہ امیر المؤمنین!  رضی اللہ  تعالیٰ عنہ مجھے اپنی فو ج کو دریا کے پاراتار نا تھا اس لئے میں نے پانی کی گہرائی کا
Flag Counter