Brailvi Books

کراماتِ صحابہ
78 - 342
چادردیکھ کر آگ بجھ گئی
	روایت میں ہے آپ رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کی خلافت کے دور میں ایک مرتبہ ناگہاں ایک پہاڑ کے غار سے ایک بہت ہی خطرناک آگ نمودار ہوئی جس نے آس پاس کی تمام چیزوں کو جلا کر راکھ کا ڈھیر بنادیا،جب لوگوں نے دربار خلافت میں فریاد کی تو امیر المؤمنین رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے حضرت تمیم داری رضی اللہ  تعالیٰ عنہ کو اپنی چادر مبارک عطافرمائی اور ارشادفرمایا کہ تم میری یہ چادر لے کر آگ کے پاس چلے جاؤ ۔ چنانچہ حضرت تمیم داری رضی اللہ  تعالیٰ عنہ اس مقدس چادر کو لے کرر وانہ ہوگئے اورجیسے ہی آگ کے قریب پہنچے یکایک وہ آگ بجھنے اورپیچھے ہٹنے لگی یہاں تک کہ وہ غار کے اندر چلی گئی اورجب یہ چادر لے کر  غار کے اندر داخل ہوگئے تو وہ آگ بالکل ہی بجھ گئی اور پھر کبھی بھی ظاہر نہیں ہوئی۔ (1)
                                                      (ازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۱۷۲)
تبصرہ
	اس روایت سے پتہ چلتاہے کہ ہوا اورپانی کی طرح آگ پر بھی امیرالمؤمنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حکمرانی تھی اورآگ بھی آپ کے تابع فرما ن تھی ۔
	امام الحرمین نے اپنی کتاب ’’الشامل‘‘میں تحریر فرمایا ہے کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں زلزلہ آگیا اورزمین زوروں کے ساتھ کانپنے اورہلنے لگی۔ امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ  تعالیٰ عنہ نے جلا ل میں بھر کرزمین پر ایک درہ مار ااور بلندآواز سے تڑپ کر فرمایا:
 (ازالۃ الخفاء مقصد۲،ص۱۷۲)
قِرِّیْ اَلَمْ اَعْدِلْ عَلَیْکِ
 (اے زمین !ساکن ہوجا کیا میں نے تیرے اوپر عدل نہیں کیاہے) آپ کا فرمان جلالت نشان سنتے ہی زمین ساکن ہوگئی اورزلزلہ ختم ہوگیا۔(2)
مارسے زلزلہ ختم
1…حجۃ اللّٰہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ،المطلب الثالث  فی ذکر جملۃجمیلۃ...الخ،ص۶۲۱وازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، مقصد دوم،  الفصل الرابع،ج۴،ص۱۰۹

2…حجۃ اللّٰہ علی العالمین، الخاتمۃ فی اثبات کرامات الاولیاء...الخ، المطلب الثالث  فی ذکر جملۃجمیلۃ ...الخ،ص۶۱۲
Flag Counter