پیروؤں اورہواخواہوں کو اس درجہ گمراہ کرچکے ہیں کہ ان کے عوام گمراہی کی بھول بھلیوں سے نکل کر صراط مستقیم کی شاہراہ پر آنے کے لیے کسی طرح تیار ہی نہیں ہوتے اورمثل مشہور ہے کہ سوتے کو جگانا بہت آسان ہے مگر جاگتے کو جگانا انتہائی مشکل ہے۔ اس لئے اب ہم ان لوگوں کی ہدایت سے تقریباًمایوس ہوچکے ہیں کیونکہ یہ لوگ جاہل نہیں بلکہ متجاہل ہیں یعنی سب کچھ جانتے ہوئے بھی جاہل بنے ہوئے ہیں اوریہ لوگ طالب حق نہیں ہیں بلکہ معاند ہیں، یعنی حق کے ظاہر ہونے کے بعد بھی حق کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔
اس لئے ہم اپنے سنی حنفی بھائیوں کو یہی مخلصانہ مشورہ بلکہ حکم دیتے ہیں کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے غیب داں ہونے کے عقیدہ پر خود پہاڑ کی طرح مضبوطی کے ساتھ قائم رہیں اوران گمراہوں کی تقریروں ، تحریروں اورصحبتوں سے بالکل قطعی طور پر پرہیز کریں کیونکہ گمراہی کے جراثیم بہت جلد اثرکرجاتے ہیں اورہدایت کا نور بڑی مشکل اوربے حد جدوجہد کے بعد ملتاہے ۔ خداوند کریم ہمارے برادرانِ اہل سنت کے ایمان وعقائد کی حفاظت فرمائے اورتمام گمراہوں ، بددینوں اوربیدینوں کے شر سے بچائے رکھے ۔ (آمین)
آخر الذکرمذکورہ بالا تین روایتوں سے ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکروعمررضی اللہ تعالیٰ عنہما کی مقدس شان میں بدگوئی اوربدزبانی کا انجام کتنا خطرناک وعبرتناک ہے؟ زمانہ حال کے تبرائی روافض کے لیے یہ روایات تازیانہ عبرت ہیں کہ وہ لوگ اپنی تبرابازیوں سے باز آجائیں ورنہ ہلاکتوں اوربربادیوں کا سگنل ڈاؤن ہوچکا ہے اور قریب ہے کہ عذاب الٰہی کی ریل گاڑی ان ظالموں کو روند کر چورچور کر ڈالے گی